"FBC" (space) message & send to 7575

’’بوٹی صنعت‘‘

پاکستان میں تعلیمی اداروں کی دیواروں پر خوشنما رنگوں سے نصیحت آموز اقوال لکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان اقوال کو تحریر کرنے کا مقصد بظاہر تو طلبا کی رہنمائی اور ان کی تربیت ہوتا ہے‘ مگر ان پر عمل کس حد تک کیا جاتا ہے ‘یہ ایک الگ بحث ہے۔کراچی میں ناظم آباد کے ایک سکول کی دیوار پر یہ جملہ پڑھنے کو ملا کہ ''اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے‘ تو اس پراسلحہ و گولہ بارود استعمال کرنے کی بجائے ‘اس کے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کردو‘‘۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جملہ ایسے سکول کی دیوار پر درج تھا‘ جو کراچی میں ہونے والے امتحانات کے دوران امتحانی مرکز قرار پایا تھا اور نقل مافیا کے ہاتھوں فروخت ہوچکا تھا۔یہ انوکھی خریدوفروخت سندھ میں امتحانی نظام کا ایک لازمی جز بن چکی ہے۔ امتحانات سے قبل ہی سندھ کے تمام بورڈز میں نقل مافیا سرگرم ہوجاتی ہے۔ملک میں تعلیمی نظام کے زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نقل مافیا نے اپنے قدم جمائے اوراپنے ''کاروبار‘‘ کو فروغ دینے کیلئے مختلف طریقے متعارف کرادیے ہیں۔
تعلیمی نظام میں یہ تنزلی ایک دم سے نہیں آئی‘ بلکہ نوجوان نسل کو آہستہ آہستہ سیکھنے کے عمل سے دور کیا گیا ہے ۔ ابتداء میں طلبا کیلئے گائیڈ سسٹم متعارف کرایا گیا ‘جس کے بعد طلبا نے نصابی کتب سے دوری اختیار کی اور امتحانات کے قریب آکر گائیڈ سے رٹا لگانے کو امتحانات میں کامیابی کی ضمانت سمجھ لیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اساتذہ سکھانے اور طلبا سیکھنے کے عمل سے دور ہوتے چلے گئے۔ اساتذہ نے تعلیم کو کاروبار بنایا اور بڑے بڑے ٹیوشن سینٹرز کھول لیے گئے‘ جس کے بعد تعلیمی اداروں میں تعلیم کی فراہمی کا معیار مسلسل گرتا چلا گیا ۔ ناقص معیار تعلیم نے طلبا کو ٹیوشن سینٹرز کا رخ کرنے پر مجبور کردیا ۔ تعلیمی نظام کے اس زوال کے سامنے مزاحمت کرنے کی بجائے والدین نے بھی اسے اپنا لیا اور بچوں کو گریڈ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل کرا کے ان ٹیوشن سینٹرز کا محتاج کردیا۔ شعور و آگاہی کے حصول کی بجائے طلبا کو امتحان میں کامیاب ہونے اور اچھا گریڈ لینے کی ہوس میں مبتلا کردیا ‘جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طلبا نقل مافیا کے پھندے میں پھنستے چلے گئے۔
کسی نظام میں توڑ پھوڑ شروع ہوجائے تو پھر وہ رکتی نہیں ہے ۔ کچھ ایسا ہی سندھ کے تعلیمی نظام کے ساتھ بھی ہوا ۔ ٹیوشن سینٹرز کی جانب طلبا کا رخ ہوا تو ان ٹیوشن سینٹرز کو اپنی ''کارکردگی ‘‘کی بنیاد پر طلبا کو اپنی جانب متوجہ کرنا پڑا ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان ٹیوشن سینٹرز کے مالکان نے تعلیمی بورڈز میں تعلقات استوار کیے اور اپنے اپنے سینٹرز میں پڑھنے والے بچوں کو پوزیشن دلوانے ‘ اچھے گریڈز میں پاس کروانے کے لیے کھل کر پیسے کا استعمال کیا ۔ اپنے سینٹر کے بچوں کو کامیاب کروانے کے بعد ان بچوں کی تصاویر پر مبنی تشہیری مہم چلائی جاتی تھیں‘ جس کے ذریعے نئے آنے والوں کو اپنی جانب راغب کیا جاتا تھا ۔ ''مقابلے کا یہ منفی رجحان‘‘ اس قدر بڑھا کہ ان ٹیوشن سینٹرز مالکان اور بورڈ آفس کی کالی بھیڑوں پر مشتمل ''نقل مافیا‘‘ وجود میں آگئی ۔ اس مافیا کی ملی بھگت سے امتحانی مراکز کی خریدوفروخت شروع ہوگئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں بڑی تعداد میں امتحانی مراکز امتحانات شروع ہونے سے قبل ہی فروخت ہوجاتے ہیں ۔ فروخت شدہ امتحانی مراکز میں کسی سستے بازار میں دستیاب اشیاء کے نرخوں کی طرح نقل کے مختلف طریقے اور ہر طریقے کے مختلف نرخ مقرر کیے جاتے ہیں؛ اگرامتحان شروع ہونے سے پہلے ہی پرچہ درکار ہو تو قیمت زیادہ ہوتی ہے اور اگر امتحان کے دوران حل شدہ پرچہ درکار ہو تو اس کا نرخ الگ ہے‘ اگر اصل امیدوار کی جگہ جعلی امیدوار بٹھانا ہے تو نرخ الگ ہیں؛ اگر صرف پاس ہونا ہے تو قیمت الگ ہے اور اگر اچھا گریڈ درکارہے تو نرخ علیحدہ ہیں‘ پھر یہ ''سہولیات‘‘ صرف یہاں تک نہیں ‘بلکہ اگر کسی پرچے میں امیدوار فیل ہوجائے‘ تو اسے دوبارہ چیکنگ میں پاس کرانے کے پیسے الگ ہیں اور دوبارہ امتحان دینے کی صورت میں کامیاب کرانے کی قیمت الگ ہے۔ غرض یہ کہ نقل مافیا ایک منظم صورت میں اپنا ڈھانچہ قائم کرچکی ہے اور اب یہ باقاعدہ ''بوٹی کی صنعت‘‘ بن چکی ہے۔اس میں ملوث نقل مافیا باقاعدہ سیزن لگاتی ہے۔ میٹرک کے امتحان کا سیزن‘ انٹر امتحانات کا سیزن‘ پھر گریجویشن اور ماسٹر کے امتحانات کا سیزن۔الغرض ہر سیزن ‘کروڑوں روپے کمائی کا ذریعہ ہے ۔ 
کسی حکومتی عہدیدار کا بدعنوان ہونا قوم کا آج خراب کرتا ہے‘ مگر اساتذہ اور طلباء کا کرپٹ ہوجانا کسی بھی قوم کا مستقبل ‘بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نسلوں کا مستقبل برباد کردیتا ہے ۔ ''بوٹی کی صنعت‘‘کی روک تھام کی جانب آج تک توجہ نہیں دی گئی۔ اس میں ملوث افراد کے خلاف کبھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یہ زہر نوجوانوں کی رگوں میں سراعت کرگیا ہے ‘جس سے نوجوانوں میں سیکھنے کی لگن ختم ہوچکی ہے‘ ان کی صلاحیتیں زنگ آلود‘ عزائم پست اور خودی ملیامیٹ ہوگئی ہے۔ اس مکروہ دھندے میں ‘ امتحانی بورڈز کے افسران‘ اساتذہ‘ سرکاری افسران ملوث ہیں۔ یہ مافیا اتنی مضبوط اور منظم ہوچکی ہے کہ اب پاکستان میں قابلیت کے سب سے بڑے امتحان سینٹرل سپیرئیر سروسز (سی ایس ایس) کے پرچے بھی آئوٹ کرا لیے جاتے ہیں۔
بوٹی کی اس صنعت کے خاتمے اور بوٹی مافیا کو نکیل ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مکروہ فعل میں ملوث افراد کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں۔ جو افراد آئندہ نسلوں کی تباہی کے ذمہ دار بن رہے ہیں‘ انہیں عبرت کا نشان بنا یا جائے۔ٹیوشن سینٹرز کی مونوپلی کوختم کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کو بہتر بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبا کو اس لعنت سے چھٹکارہ دلانے کیلئے امتحانی طریقہ کار میں بھی تبدیلی کیے جانے کی ضرورت ہے۔ امتحانی نظام میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں کہ طلبا میں رٹا مارنے اور منفی طریقے استعمال کرنے کے رجحان کی بیخ کنی ہوسکے۔ امتحانی پرچوں کے ذریعے طلبا کی زہانت اور ان کی صلاحیتوں کو جانچا جائے ۔ سوالات اس نوعیت کے ہوں کہ انہیں منفی ذرائع استعمال کرکے حل نہ کیا جاسکے اور طلبا اپنی ذہانت کے مطابق ‘انہیں حل کرنے پر مجبور ہوں ۔ امتحانات کی تیاری کیلئے طلباء کو لائبریریوں کا رخ کرنا پڑے۔ ایسے پرچوں میں موجود سوالات کے ذریعے جہاں طلبا کی ذہانت جانچنے میں مدد ملے گی ‘وہیں ممتحن کی قابلیت بھی سامنے آئے گی۔ 
اگرنقل کی اس لعنت پر قابو نہیں پایا گیا‘ تو پھر تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوں گے۔ایسے دانشور سامنے آئیں گے‘ جن کا ''دانش‘‘ سے دور پرے کا واسطہ نہیں ہوگا‘ ایسے منصف مسندوں پر تعینات ہوں گے‘ جو انصاف سے نابلد ہوں گے۔ مسیحا رموزِ مسیحائی سے ناآشنا اور رہنما عقل و بصیرت سے عاری ہوں گے۔ غرض یہ کہ ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا‘ جس کی بنیاد بہت کمزور ہوگی اور وقت کے کسی ہلکے سے تھپیڑے سے ہی زمین بوس ہوجائے گا۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں