کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ‘ بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ مؤمنین اور بے گناہ مؤمنات کو زبانی ایذا دینے والوں یعنی ان پر بہتان باندھنے والوں کے عمل کو صریح گناہ قرار دیاہے۔الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں‘ اس لیے اِس عمل سے باز رہنا چاہیے اور جس پر تہمت لگائی گئی ہے اس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔تعلیمی اداروں میں اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بہتان باندھنے جیسے قبیح فعل کا ارتکاب اب ایک معمول بن گیا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ نام نہاد صحافیوں نے بھی جگمگاتی سکرینوں پر آنے کے لیے غیر مصدقہ اور من گھڑت خبروں کا سہارا لینے کو اب معمول بنا لیا ہے۔
چند ماہ قبل جامعہ کراچی کے دو اساتذہ پر طالبات کو ہراساں کرنے کا بہتان باندھا گیا تو جامعہ ایک بار پھر منفی ذہنیت کے حامل صحافیوں کے ہاتھوں تخلیق کردہ ٹیبل سٹوریز کی زد پہ آگئی۔ ان میں سے شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد ڈاکٹر اسامہ شفیق پر بھی طالبات کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ الزامات لگانے والوں میں بظاہر تو تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم کا ایک ذمہ دار ت منظر عام پر تھا۔ جن اساتذہ پر یہ الزامات عائد کیے گئے تھے وہ جامعہ میں انتہائی قابل اور اچھی شہرت رکھتے تھے ۔ ان الزامات کی تردید جامعہ کراچی کی جانب سے بھی کی گئی تھی تاہم میدان صحافت سے تعلق رکھنے والے ایسے صحافی‘ کہ جن کی صحافت کو کل دارومدار واٹس اپ گروپس پر ہوتا ہے ‘ انھوں نے جامعہ کی تردید کو خبر ہی نہ گردانا اور فریق مخالف کے موقف کے طور پر بھی قبول نہ کیا۔ ہر میڈیا گروپ نے اپنی بساط‘ خواہش اور اپنے رپورٹرز کی ''صلاحیت‘‘ کے مطابق اس بہتان باندھنے کے فعل بد میں حصہ لیا ۔ واحد دنیا میڈیا گروپ نے اس وقت بھی خبر کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ایسی بے بنیادخبر کے اجراء سے گریز کیا۔ اسی دوران الزامات لگانے والے طالب علم کے ساتھ تین طالبات کے بھی نام سامنے آئے‘ جن کا کہنا تھا کہ مذکورہ اساتذہ نے انھیں موبائل فون پر میسجز کے ذریعے ہراساں کیا ہے اور بات نہ ماننے کی صورت میں ''شاٹ آف اٹینڈنس ‘‘ کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اب دلچسپ بات یہ تھی کہ جن تین طالبات نے استاد نعمان انصاری پر شاٹ آف اٹینڈنس کا نشانہ بنانے کی دھمکی دینے کا الزام لگایا تھا یہ تینوں طالبات کبھی ان کی اسٹوڈنٹس ہی نہیں رہیں تھیں۔ان بے بنیاد الزامات کے بعددونوں اساتذہ نے انصاف کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی۔ ایک جانب جب ڈاکٹر اسامہ شفیق نے انصاف کے لیے عدالت کے دروازے پر دستک دی تو غیر مصدقہ خبریں چلانے والے رپورٹرز میں بھاگ دوڑ مچ گئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر اسامہ شفیق اور نعمان انصاری کی درخواست پر جامعہ کراچی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔اس دوران میڈیا پر محترم اساتذہ کی خوب پگڑی اچھالی جاتی رہی۔ میڈیا اور میڈیا میں گھسی ہوئی ان کالی بھیڑوں کی کوشش تھی کہ والدین کا استاد جیسے مقدس کردار سے اعتبار ہی اٹھ جائے۔ڈاکٹر اسامہ شفیق کی درخواست پرعدالت نے اپنے فیصلے میں جامعہ کراچی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ آنے تک چینلز کو خبریں جاری کرنے سے روک دیا۔ اسی دوران ڈاکٹر اسامہ شفیق اپنا کیس لے کر پیمرا چلے گئے ۔انصاف کی تلاش میں سرگرداں استاد نے ہر اس در پر دستک دی جہاں سے اسے انصاف کی توقع تھی۔
جامعہ کراچی کی جانب سے قائم کردہ پہلی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے بہتان کا بار اٹھائے اساتذہ اور الزام لگانے والے طالب علم اور طالبات سے کہا گیا کہ وہ فرانزک کے لیے اپنے موبائل فون جمع کرائیں۔ کمیٹی کی اس ہدایت پر قابل احترام اساتذہ نے تو اپنا موبائل فون فوری طور پر کمیٹی کو پیش کردیے جبکہ الزام لگانے والوں نے موبائل جمع کرانے سے انکار کردیااور کمیٹی کی جانب سے متعدد بار بلانے کے باوجودحاضر نہ ہوئے۔ اس کمیٹی نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ شفیق پر الزامات لگانے والے مسلسل موبائل فرانزک کرانے سے گریزاں تھے‘ جس پر جامعہ کراچی نے مرکزی کمیٹی بنائی‘ تاہم مرکزی کمیٹی بھی بہتان لگانے والوں سے فرانزک کے لیے موبائل حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہی وجہ رہی کہ مرکزی کمیٹی کے ذمہ داران پر بھی شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان کمیٹیوں کے قیام کے بعد ہوا یہ کہ بہتان لگانے والے منظر عام سے غائب ہوگئے اور اس گمشدگی کی وجہ مبینہ طور پر یہ تھی کہ جامعہ کے اساتذہ پر بہتان لگانے کے پس پردہ کرداروں کے نام منظر عام پر آنے کا اندیشہ تھا ‘جن میں تحریک انصاف کے ہی کراچی سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی‘ شعبہ ابلاغ عامہ کی دو خواتین ٹیچرز اور کچھ نام نہاد صحافی تھے۔ ان میں اندرون سندھ کی ایک جامعہ کے وائس چانسلر صاحب کا نام بھی لیا جارہا ہے جو مسلسل شیخ الجامعہ کراچی بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے ان کی صحافی بہو بھی اپنی صحافت کا بھرپور استعمال کررہی ہیں۔جن خواتین اساتذہ کا بہتان باندھنے کے اس عمل میں شامل ہونے کا بتایا جارہا ہے ان کے حوالے سے بھی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں کہ ان میں سے ایک خاتون استاد گزشتہ پندرہ سال سے ڈاکٹریٹ کرنے کی تگ و دو میں ناکامی کے بعد اب بغیر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے اس ڈگری کی حامل عہدے کی طلبگار ہیں۔ اگر بہتان باندھنے والوں کے موبائل فرانزک ہوجاتے تو پاکستان کے معروف تعلیمی اداروں میں ایسے گھنائونے کھیل کھیلنے والوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ۔ بہرحال اساتذہ نے شکست تسلیم نہ کی اور بدستور انصاف کے حصول کیلئے مصروف رہے۔اس دوران صورتحال یہ رہی کہ بہتان کے حوالے سے خبریں دینے والے صحافیوں کو بھی سانپ سونگھ گیا۔جامعہ کراچی کی جانب سے قائم کردہ کمیٹیوں کی جانب سے پیش کردہ حقائق کو ٹی وی سکرینوں کی زینت نہ بنایا گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان رپورٹس میں کوئی چٹخارہ نہیں تھا۔
اب ایسی صورتحال میں صاحب علم تو یہ فرماتے ہیں کہ شریعت میں دعویٰ اور حق کو ثابت کرنے لیے ضابطہ ہے کہ مدعی ( دعویٰ کرنے والے ) کے ذمہ اپنے دعویٰ کو گواہی کے ذریعہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے‘ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ (جس پر دعویٰ کیا جائے اس) پر قسم آئے گی ‘ اور اگر وہ قسم کھالے تو اس کی بات معتبر ہوگی۔مگر یہاں تو معاملہ مختلف ہوا کہ جن اساتذہ پر بہتان باندھے گئے وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در جارہے تھے اور ہر قسم کے احتساب اور تحقیقات کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کررہے تھے۔ مگر میڈیا کو بہتان سازی کی صنعت بنانے والے ان کی کسی بات کو ماننے پر قطعی تیار نہ تھے۔بالآخر اس سارے معاملے کا اختتام یہ ہوا کہ چند دن قبل اس ساری سازش کے دوران منظر عام پر رہنے والے واحد کردار اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن مہتاس علی خان کو تین پرچوں میں پاس ہونے کے لیے ٹیچرز کو بلیک میل کرنے کے الزام میں ڈاکٹر اسامہ شفیق کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر جامعہ سے نکال دیا گیا جس کے بعد بہتان باندھنے میں شامل دیگر افراد نے بھی خاموشی اختیار کرلی ہے۔
بظاہر تو اساتذہ سرخرو ہوئے اوراس سارے مکروہ کھیل کا اختتام ہوچکا مگر اساتذہ سے اپنے مضامین کو پاس کرانے کے لیے ان پر بہتان باندھنے کی روش کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا اور ایسے قبیح فعل کا ارتکاب کرنے والے اور مختلف پلیٹ فامز سے اپنے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ان کی حمایت کرنے والوں کی گرفت ہوسکے گی۔ یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔