"FBC" (space) message & send to 7575

حکومتی کہانی‘محاوروں کی زبانی!

2018ء کے عام انتخابات میں تبدیلی کا سونامی بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ واضح رہے کہ بہت کچھ‘ سب کچھ نہیں ‘ ہاں! سب کچھ کیلئے جتن بہت ہوئے ‘جہاں یہ سونامی پہنچ نہ پارہی تھا‘ وہاں گجراتی پنکھوں سے مدد لے کر مصنوعی سونامی لانے کی بھی کوششیں کی گئیں۔ بہرحال سب کچھ پھر بھی نہ گھیرا جاسکا ۔آخر کارنتیجہ یہ نکلا کہ انصاف کے نام پر حکومت قائم ہوگئی۔ تبدیلی کی ہوا میں پرواز کرنے والے عوام کی خوشی دیدنی تھی ۔زیادہ انتظارنہ کرنا پڑا ‘ جیسے جیسے وقت گزرا ‘ عوام کو اندازہ ہوتاچلاگیا کہ نام؛ اگرچہ بڑے تھے‘ مگر درشن چھوٹے ہی ثابت ہوئے۔ تبدیلی کے وعدوں میںوفا تو خیر کیا ہونا تھا ‘ وعدہ خلافی یوٹرن بنی اورسیاسی رہنماکی عظمت قرار پائی۔ دعوؤں کے برعکس آئی ایم ایف کے در پر مثل ِپاکپتن ماتھا ٹیکا تو عوام کا ماتھا ٹھنکا‘ مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ جب آئی ایم ایف کے ''نادر شاہی احکامات‘‘ پرناچ شروع ہی کردیا تو گھونگٹ کیسا‘ پھر جب گھونگٹ ہٹاتو عوام کی چیخیںہی نکل گئیں۔تبدیلی نے مخالفوں کے ساتھ حامیوں کو بھی دن میں تارے دکھائے اور چودہ طبق روشن ہوگئے۔آئی ایم ایف کے احکامات کا نزلہ گرا تو بیچارے عوام پر ‘جو پہلے ہی تبدیلی کا پہاڑ کھود کر چوہا نکلنے پرحیران کھڑے تھے۔
انتخابات کے وقت بھان متی کے کنبہ کے مصداق‘ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کرکے یہ کنبہ جوڑا گیا تھا اور توقع یہ کی جارہی تھی کہ اس کنبہ کا کفیل اپنی مدت پوری کرہی لے گا۔ ابتداء میں تو کامیابی یہ رہی کہ ہر خطاب میں اداروں کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا پیغام دینے کا سلسلہ جاری رکھا ‘تو بچت رہی‘ اس کے ساتھ ساتھ بہترین ''سیاسی چالوں‘‘ سے اپوزیشن کو کسی ایک احتجاجی پلیٹ فارم پر اکٹھے نہ ہونے دیاگیا‘ مگر ایسا کب تک اور کہاں تک چلتا؟ بڑی اپوزیشن جماعتیں تو تاحال بھی کوئی احتجاجی راہ اپنانے سے گریزاں رہیں ‘پر کیا کیا جائے مولانا صاحب کا کہ جب سے الیکشن ہاریں ہیںتوان کے پاس کوئی سرگرمی ہی نہیں تھی۔ وہ سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن اور پھر اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی مہم کا حال تو دیکھ ہی چکے تھے‘ جب سینیٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کا حال دیکھا تو شاید اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی ۔ اپوزیشن جماعتیں تذبذب میں نظر آئیں ‘تو اکیلے ہی آزادی مارچ کیلئے نکلنے کا اعلان کردیا۔حکومتی ایوانوں میں پہلے پہل تومولانا صاحب کے مارچ کو محض دھمکی سمجھا گیا‘ مگر جیسے جیسے مولانا کی آزادی مارچ کے لیے دی ہوئی تاریخیں قریب آتی گئیں ‘حکومتی آوازوں میں وہ دم خم ختم ہوتا چلا گیا ۔ خمار تھوڑا اُترا‘ حواس بحال ہوئے تو ایک بار پھر ''ہم ایک پیج پر ہیں‘‘ کا نعرہ ٔسیاستانہ لگاکر حالات کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی‘ مگر مولانا کے پے در پے مذاکرات ثابت کررہے تھے کہ ان کی طرف سے بھی جواب یہی ہے کہ ''ہم بھی ایک ہی پیج پر ہیں‘‘۔اس نعرے کا اثر زائل ہوتا دیکھ کر مذاکراتی کمیٹی نامی بکری سے دودھ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی‘ مگر بکری نے دودھ دینے کے ساتھ ہی حسب ِعادت اس میں تلخ جملوں‘ طنزاور جگتوں کی مینگنیاں ڈال دیں۔ بھلا ہو خان صاحب کا کہ جنہوں نے ''طویل ریاضتوں‘‘ کے بعد ملنے والی روحانی طاقتوں کی مخبری پر '' بکری ‘‘کو شٹ اپ کال دی اور کامیاب مذاکرات کا دودھ حاصل کرلیا ۔مارچ سے خائف حکومت کو یک نہ شد دو شد کے مصداق‘ نواز شریف کی بیماری کے معاملہ کو بھی اچانک سنبھالنا پڑا تو رہے سہے حواس بھی جاتے رہے۔ابتدائی طور پر حکومتی وزراء بیماری کو ڈراما قرار دیتے رہے‘ مگر جیسے ہی میڈیکل رپورٹس منظر عام پر آئیں‘ توانہیں سانپ سونگھ گیا۔ طبی بنیادوں پر پہلے تین روزہ اور پھر دو ماہ کی ضمانت منظور کرلی گئی۔یہ وہ موقع تھا جب حالات کا ادراک کرکے‘ لچک دکھا کر اور بیمار سے ہمدردی جتا کر عدالتی فیصلے کو اپنے حق میں بھی سیاسی طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا ‘مگر اس کے باوجودمرغے کی وہی ایک ٹانگ ہی رہی ''کسی کو این آر او نہیں دوں گا‘‘۔
گواہان مکرنے کے بعدسانحہ ساہیوال کے ملزمان رہا ہوچکے ہیں۔صلاح الدین کے والد سے بھی'' معجزانہ‘‘ صلح ذریعے ملزمان رہا کرالئے گئے۔ نقیب اللہ محسود کے والد تاحال دربدر ہیں‘ پھر بھی دعویٰ ہے کہ کمزور و طاقتور کو انصاف ملے گا۔ حکومتی بوکھلاہٹ توحافظ حمداللہ کی شہریت کے خاتمے‘ مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری جیسے اقدامات کی صورت نظر آہی رہی تھی‘ مگر پے در پے عدالتی فیصلوں نے حکومت کو پہلے دفاعی اور پھر معذرتی پوزیشن پر جانے پہ مجبور کردیا۔ نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت‘ حافظ حمداللہ کی شہریت کی بحالی‘ جمعیت علماء اسلام کے حفاظتی ڈنڈا بردار ونگ انصار الاسلام کی بحالی جیسے عدالتی فیصلوں نے حکومتی ٹانگوں سے رہی سہی طاقت بھی ختم کردی۔اب پلیٹ لیٹس کی کمی کا شکار مریض کی بیٹی اور بیٹے کی منتیں جاری ہیں کہ مریض کو ملک سے باہر علاج پر راضی کرلو‘ کچھ پرانے مہرے بھی اب اسی ڈیوٹی پر مامور کردئے گئے ہیں‘مگر مریض ہے کہ میں نہ مانوں کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔ اب ‘صورتحال یہ ہے کہ مولانا کی زیر قیادت آزادی مارچ اپنی منازل اسلام آباد پہنچ چکا۔ مولانا کے زیرک سیاستدان ہونے کے حوالے سے کوئی دورائے نہیں۔ انہوں نے کیا حاصل کیا ؟اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا کی پارٹی کو انتخابات میں شکست ہوئی‘ مولانا خود اپنی ہی نشست ہار گئے۔ ایسا نظر آرہا تھا کہ مولانا کی سیاست کم از کم اس دور حکومت میں تو ختم ہوچکی۔ حالات نے پلٹا کھایا‘جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کارکنوں کو باہر نہیں نکال پارہے تھے۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ہر کوشش ناکام ہوتی نظر آرہی تھی اور صورتحال مکمل طور پر حکومت کی فیور میں تھی‘ تو اچانک مولانا نے آزادی مارچ کا اعلان کردیا۔ اس اعلان اورمارچ کے ذریعے اپنی افرادی قوت ظاہر کرکے مولانا نے ارباب ِاختیار کو واضح پیغام دیا کہ وہ بے شک پارلیمنٹ سے باہر ہیں ‘مگر اصل اپوزیشن وہ ہی ہیں۔ یہ وہ کامیابی ہے‘ جو مولانا فضل الرحمن مارچ کے آغاز میں ہی حاصل کرچکے ہیں۔
مولانا کی سیاسی ''فہم و فراست‘‘ کے اپنے تو قائل ہیں‘ جبکہ مخالفین خائف ہیں۔ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کے نکات میڈیا پر بار بار دُہرا کر حکومت مولانا سے تجدیدعہد چاہتی ہے ‘مگر شاید مولانا کی فراست فی الحال اس تجدید کی اجازت نہیں دیتی۔ بس یہی نکتہ ہے‘ جس نے حکومت کی جان جوکھم میں ڈالی ہوئی ہے۔ عوام کا جم غفیر اسلام آبادمیں موجود ہے اور حاکم وقت ہے‘ زبان خلق سمجھنے سے ہی قاصر ہے ‘کجا یہ کہ نقارہ خدا سمجھے۔آزادی مارچ کی صورت موجودہ اپوزیشن قدم باہر نکال چکی ہے‘ اور اسے نہ روک سکنا حکومت کی پہلی ناکامی ہے‘پھر عوام کی اس مارچ کے حوالے سے دلچسپی مارچ کے شرکاء کی تعداد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سے دیکھی جاسکتی ہے۔ادھر حال یہ ہے کہ خان صاحب نے حالیہ خطاب میں پھر کہا کہ ادارے میرے ساتھ ہیں ‘ این آر او نہیں دوں گا۔ اب کوئی خان صاحب سے پوچھے کہ کبھی عوام کو بھی ساتھ ملا لیا کریں‘ ان بیچاروں کا کیا قصور ہے؟''تم میں اور تیسرا‘ آنکھوں میں ٹھیکرا‘‘ کے مصداق‘ آپ ''تم میں‘‘میں ہی خوش ہیں اور عوام بیچارے آپ کی آنکھوں کا ٹھیکرا بن چکے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آزادی مارچ کے دبائو کو دیکھتے ہوئے فیصلہ ساز اپنے فیصلوں میں ردوبدل کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔اگر دبائو بڑھتا ہے تو بھان متی کنبے کے چند روڑے آگے پیچھے کیے جاسکتے ہیں اور کچھ اینٹیں بدلی جاسکتی ہیں‘ تاہم اگر مولانا کے فہم نے استعفیٰ پر ضد پکڑ لی تو پھر کیا ہوگا؟ اس پر کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا ‘مگر یاد رہے کہ وہ دن بھی قریب آرہے ہیں‘ جب دارالحکومت سمیت اہم شہروں کو ''سموگ ‘‘اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ہر منظر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے ‘ پھر جب منظر واضح ہوتا ہے تو بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔

 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں