ایک نجی تعلیمی ادارے کے شعبہ صحافت میں طلبا سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ‘ طلبا کی جانب سے سوالات کے دوران گفتگو طلبا یونین کی بحالی کی موجودہ لہر کی جانب چلی گئی۔ اس گفتگو سے اندازہ ہوا کہ طلبا اس موضوع کے حوالے سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں اور مختلف دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے‘ جو سرے سے یہ ہی نہیں جانتا کہ طلبا یونین اور طلبا تنظیم میں کیا فرق ہے۔افسوس یہ نہیں کہ وہ یہ نہیں جانتا ‘بلکہ دکھ تو یہ ہے کہ وہ یہ جاننا بھی نہیں چاہتے‘ یعنی انہیں اپنے حقوق کی جدوجہد اور شعور و آگہی کے حصول میں ہی دلچسپی نہیں ۔ دوسری جانب وہ گروہ ہے‘ جو طلبا یونین اور طلبا تنظیم کے فرق کو تو سمجھتا ہے‘ مگر یہ موقف رکھتا ہے کہ طلبا یونین جرائم پیشہ افراد پیدا کریں گی ‘ تدریسی و غیرتدریسی عمل زوال پذیر ہوگا اور تعلیمی ادارے سیاست کا گڑھ بن جائیں گے‘ اسی طرح تیسرا گروہ جو تعداد میں کم ہے‘ مگر طلبا یونین کے تاریخی کردار سے بہت اچھی طرح واقف ہے ‘ خوب جانتا ہے کہ طلبا میں شعور اجاگر کرنے کیلئے اور ملک کو اچھی قیادت دینے کیلئے طلبا یونین کس قدر ضروری ہیں اور آمریت و موروثی سیاست کے پیروکار کیوں طلبا یونین کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔طلبا یونینز ایسی بھٹیاں تھیں کہ اس سے گزر کر سامنے آنے والوں کی اکثریت نہ تو آمریت کے سامنے جھکی اور نہ ہی موروثی سیاست کا حصہ بنی ۔ اب‘ المیہ یہ ہے کہ ملک کو زرخیز اذہان فراہم کرنے والی اس نرسری کو بند کیا گیا تو خود رو جھاڑ کی بہتات ہوگئی ہے ۔ قبل اس کے کہ طلبا یونین کیا ہے اور کیوں ضروری ہے ‘ پر بات کی جائے صرف یہ جاننے کے لیے کہ تعلیمی اداروں میں طلبا یونین کی اہمیت کیا ہے‘موجودہ سیاستدانوں میں سے طلبا یونین میں وقت گزار کر آنے والے سیاستدانوں جاوید ہاشمی‘ رضا ربانی‘ سید منور حسن و دیگر کو دیکھ لیں ‘جبکہ سیاسی میدان میں پیراشوٹ کے ذریعے لینڈکرنے والے موجودہ رہنمائوں بشمول وزراء پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ انہوں نے طلبا یونین میں تو کیا شاید طلبا میں بھی وقت نہیں گزارا۔طلبا یونین کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی اس میں ''سلیکٹڈ ‘‘یا'' الیکٹ ایبلز‘‘ نہیں ہوتے تھے۔
اب آتے ہیں طلبا یونین کی جانب ۔طلبایونین کسی بھی تعلیمی ادارے کے اندر طالبعلموں کی منتخب کردہ اس قانونی تنظیم کو کہا جاتا ہے‘ جو تعلیمی اور سیاسی معاملات میں مختلف فورمز پرطلبا ء کی نمائندگی کرتی ہے اور مختلف قسم کے ہم نصابی اور فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے۔ملک میں انتخابی عمل کے ذریعے نمائندے منتخب کرنے کے عمل کی طرح ہی طلبا یونینز باقاعدہ انتخابی عمل کے ذریعے سے منتخب کی جاتی ہیں۔ مختلف پینل اپنے امیدواران کی نامزدگیان کرکے بھرپور مہم چلاتے ہیں۔ اس انتخابی عمل کے دوران متعلقہ ادارے کے تمام طلبا و طالبات ووٹ کے ذریعے پورے سال کیلئے اپنی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس طرح تشکیل پانے والی کابینہ کی قانونی و آئینی حیثیت کو ہر جگہ تسلیم کیا جاتا ہے۔35 سال سے طلبا یونین پر پابندی نے طلبا کو اپنے حقوق کی نمائندہ اس باڈی سے اجنبی کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا اور ان تین دہائیوں میں تعلیم حاصل کرکے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہونے والے افراد‘ طلبا یونین اور طلبا تنظیموں میں فرق نہیں کرپاتے اور اس کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہے کا شکار ہوجاتے ہیں؛حالانکہ طلبا یونین اور طلبا تنظیم میں واضح فرق ہے ۔ طلبا یونین کسی کالج یا یونیورسٹی میں طلبا کی متفقہ اور قانونی منتخب تنظیم ہوتی ہے‘ جبکہ طلبا تنظیم کسی مخصوص نظریے‘ علاقے‘ نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کی نمائندگی کرتی ہے۔
9فروری 1984ء کو جب آمر وقت نے طلبا کی نمائندگی اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضامن طلبا یونین پر شب خون مارا تو اس کے پیچھے کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کولیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی کے زیر نگرانی کام کرنے والی سندھ حکومت نے 1983ء میں خبردار کیا تھا کہ طلبا کسی بھی وقت آمریت کیخلاف تحریک شروع کرسکتے ہیں اور اس رپورٹ سے جنم لینے والا خوف پابندی کا سبب بنا۔ آمر وقت کا خوف بے جا نہیں تھا‘طلبا یونین کی تاریخ اس خوف پر مہر تصدیق ثبت کرتی تھی۔اقبال حیدربٹ نے اپنی کتاب ''ری وزیٹنگ سٹوڈنٹس پالیٹکس ان پاکستان ‘‘ میں طلبا یونین کے ادوار اور اس دوران طلبا یونین کے اثر رسوخ کو ختم کرنے کیلئے مختلف حکومتی ہتھکنڈوں کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔ 1953ء میں طلبا پر فیسوں کا اضافہ ختم کراکے جامعہ کراچی کے قیام کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش ہو یا 1968ء میں ایوبی مارشل لاء کیخلاف تحریک کے ذریعے ایک آمر کو گھر بھیجنے کی جدوجہد‘ تحریک تحفظ ختم نبوت ہو یا بنگلہ دیش نامنظور تحریک‘ طلبا اپنے طلبا یونین کے نمائندوں کی قیادت میںہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے رہے۔ ایوبی مارشل لاء کے دوران بھی طلبا نے پابندیوں کا سامنا کیا ‘تاہم طلبا یونین کے انتخابات کا انعقاد پھر بھی ہوتا رہا۔طلبا یونین کے انتخابات کی صورت حال یہ رہی کہ قیام کے بعد ابتداء میں تو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلبا یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ‘مگر اندرونی اختلافات کے بعد اس کی جگہ بائیں بازو کی جماعت نے لے لی تھی۔ بعد ازاں بائیں بازو کی جماعت بھی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور چین کے زیر اثر کمیونسٹ دھڑے کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو نے کی ‘جبکہ روسی کمیونزم سے متاثرہ دھڑے کو ولی خان نے اپنی سرپرستی میں لے لیااور اسلامی جمعیت طلبا یونین انتخابات میں طلبا کی نمائندہ بنی رہی۔1970ء سے 1985ء تک کا دور پاکستان میں طلبا یونینز کے عروج کا دور تھا۔تعلیمی ادارے معاشرے کے لیے نظریاتی‘ تربیت یافتہ اور سیاسی طور پر بالغ قیادت فراہم کرتی رہی۔ شدید نظریاتی اختلافات کے باوجودطلبا یونینز کے انتخابات کا عمل بڑی خوش اسلوبی اور تسلسل سے ہونا ایک مستحکم جمہوری پاکستان کی نوید تھا۔
طلبا یونین کی 37سالہ تاریخ میں تعلیمی اداروں کے اندر جن مثبت رجحانات کو پروان چڑھایا‘طلبا برادری پر جو اثرات مرتب کیے ‘ ان کی جھلک ادبی کونسل‘ ڈیبیٹنگ سوسائٹی‘ سپورٹس کلب‘ سٹوڈنٹس ایڈ کلب‘سٹوڈنٹس مشاورتی بورڈ‘پرائس اینڈ پیس کنٹرول کمیٹی‘ڈسپلن کمیٹی کی صورت آج بھی موجود ہیں‘ جبکہ تعلیمی اداروں میں کتب میلے کی روایت‘ہفتہ طلبا‘ادبی سرگرمیاں‘ٹرانسپورٹ کی فراہمی‘میڈیکل سہولیات کی فراہمی‘سوسائٹیز کا قیام ‘بک بینک‘ مساجد کا قیام طلبا یونین ہی کی مرہونِ منت ہے۔'تین سالہ ڈگری پروگرام‘‘ کامتنازع آرڈیننس کی واپسی‘ انٹر کالجز کو ڈگری کا درجہ دلوانا‘خواتین یونیورسٹی کا قیام‘ پنجاب یونیورسٹی میں ایل۔ ایل۔ بی۔ کا آغاز‘ سالانہ سیشن کی بجائے سمسٹر سسٹم ‘ طلبا یونین کی مرہونِ منت ہیں۔اس کے برعکس طلبا یونین پر پابندی کے ذریعے طلبا کی اس قوت کو روک دیاگیا ‘جو استبدادی رویوں کی حامل حکومتوں کی بساط لپیٹ دیتی تھی۔ گزشتہ تین دہائیاں ثابت کرتی ہیں کہ جن وجوہ کی بنیاد پر پابندی لگائی گئی تھی‘ وہ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔اقبال حیدر بٹ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 70سے 80کی دہائی کے اوائل تک طلبا یونین کے عروج کے دور میں آپسی جھگڑوں میں چار طلبا جاں بحق ہوئے‘ جبکہ پابندی کے بعد ایک سال کے دوران طلبا تصادم میں 28طلبا جاں بحق ہوئے۔ یونین کے دور میں تعلیمی اداروں کی صورتحال اور یونین کے بعد کی صورتحال ثابت کرتی ہے کہ طلبا یونین پر پابندی کو برقرار رکھنا ملک کو باشعور قیادت کے حوالے کرنے سے روکنے کی سازش اور جمہوریت کی نفی ہے۔حقائق ثابت کرتے ہیں کہ اگر تعلیمی اداروں کا ماحول بہتربنانا ہے اورباشعور افراد کو ملکی منظر نامے پر سامنے لانا ہے‘ تو طلبا یونین کی بحالی بہت ضروری ہے۔