"FBC" (space) message & send to 7575

سگ سپلائی کے ٹھیکے

''سپر ہائی وے سے کراچی میں داخل ہوتے ہوئے دو ٹرک پکڑے گئے ‘ جن میں کتے(سگ) بھرے ہوئے تھے‘ پولیس نے ڈرائیوروں کو گرفتار کرکے ٹرک تحویل میں لے لیے ہیں ‘ ایک شخص فرار ہونے کی کوشش میں زخمی ہوا ہے‘ جسے میں نے ابھی ہسپتال پہنچایا ہے‘‘ایدھی ایمبولینس کا ڈرائیور مجھے یہ خبر دے رہا تھا۔ یہ 2004ء کی بات ہے‘ جب میں کراچی میں کرائم رپورٹنگ کرتا تھا۔ ایمبولینس سروسز کے ڈرائیورز اور ان کے دفاتر میں کام کرنے والے افراد کرائم رپورٹرز کی اہم سورسز میں سے ایک ہوتے ہیں۔ مجھے خبر دینے والے ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے دو مزید رپورٹرز کو یہ خبر دی ہے‘ مگر وہ اسے معمولی خبر اور پولیس کی کمائی کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ میں نے ڈرائیور کی بات سنی اور اس کا شکریہ ادا کرکے فون رکھ دیا۔اس کے بعد اپنے سینئر ساتھی اور استاد شاہد انجم کے ساتھ خبر ڈسکس کی اور ہم دونوں متعلقہ تھانے روانہ ہوگئے ۔
تھانے پہنچ کرکتوں سے بھرے دونوں ٹرک دیکھے اور پھر ڈیوٹی افسراور گرفتار ٹرک ڈرائیوروں سے بات چیت کی تو حیرت انگیز انکشاف ہوا۔ ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ دوران ِتفتیش ٹرک ڈرائیورں نے انکشاف کیاکہ انہیں کراچی کے باہر سے کتے پکڑ کر شہر میں چھوڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اور اس کام کی انہیں مناسب قیمت ادا کی جاتی ہے۔ یہ ٹھیکہ حیدرآباد کے ایک ٹھیکیدار نے دیا ہے‘ جو عمومی طور پر اندرون سندھ سے بھینسیں کراچی کی بھینس کالونی میں سپلائی کرنے کا کام کرتے ہیں اور ہمارے ٹرک بیشتر اوقات اس کی بھینسیں لے کر کراچی آتے رہتے ہیں۔ اس بار اس ٹھیکیدار نے ہمارے مالک کو کتے پکڑ کر کراچی کے مختلف علاقوں میں چھوڑنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔
جب تفتیشی افسر سے بات کی تو اس نے بتایا کہ پہلے ہمیں شک گزرا تھا کہ شاید کراچی میں کتوں کا گوشت استعمال کیا جارہا ہے ‘مگر جب ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ ان کتوں کو کسی کو پہنچانے کی بجائے شہر کے مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتے ہیں تو پھر اس شک کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا تھا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرکوں میں کتے لاکر کراچی میں چھوڑنے کا صرف ایک مقصد ہوسکتا ہے کہ شہر میں سگ گزیدگی کے واقعات کو بڑھایا جاسکے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات اور شکوک کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات جاننے کے بعد اپنے دوست حیدرآباد کے ای ڈی او ڈاکٹر نذرمحمد صاحب سے رابطہ کرکے صورتحال بتائی اور ان کی رائے جاننا چاہی توانہوں نے ہولناک حقائق سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شعبۂ صحت میں عدم دلچسپی کے باعث ادویات کی درآمد پر نجی کمپنیوں کا غلبہ ہے ‘جو بین الاقوامی مارکیٹ سے ادویات سستے نرخوں پر اٹھاتی ہیں اور پھر اسے پاکستان میں فروخت کرتی ہیں۔ اب‘ اگر کوئی دوا مارکیٹ سے ارزاں نرخوں پر اٹھا لی جائے ‘مگر اس کی طلب موجود نہ ہو تو بیشتر کمپنیوں کے ''خفیہ نیٹ ورک‘‘ میں شامل افراد طلب بڑھانے کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اس لیے اس وقت کتوں سے بھرے ٹرک کراچی میں لا کر خالی کرنے کا منفرد نوعیت کا ٹھیکہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہوسکتا ہے۔
یہ تو بات تھی‘ 2004ء کی جب کراچی سمیت پورے سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات شازونادر ہی ہوتے تھے ۔ ایک دہائی سے زائد گزرنے کے بعد اب‘ صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں رواں سال کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 2لاکھ سے زائد واقعات ہوچکے ہیں‘ جن میں اب تک غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق‘ 24اموات ہوچکی ہیں اور 9اموات کراچی میں ہوئی ہیں۔واقعات بڑھنے کے بعد ایک وفاقی وزیر صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کتے کے کاٹے کی ویکسین کی ضرورت 10لاکھ ڈوزز ہے ‘جبکہ ملک میں صرف نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد ایک لاکھ ڈوزز تیار کرتا ہے۔ مطلوبہ مقدار میں مقامی طور پر ویکسین کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ ڈوزز بھارت کے ادارے بھارت بائیوٹک سے نجی کمپنیوں کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے‘ جبکہ انتہائی معمولی مقدار چین اور یورپی ممالک سے درآمد ہوتی ہے؛ اگرچہ قیمتوں کا تعین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کرتی ہے ‘مگر نجی درآمد کے باعث کمپنیوں کی من مانی موجود ہوتی ہے۔
نجی کمپنیوں میں شامل کالی بھیڑیں اور کمیشن کے لالچ میں تھرڈ پارٹیاں ویکسین کی طلب بڑھانے کے لیے منفی حربے استعمال کرتے ہیں ۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان میں پولیو‘ ایچ آئی وی‘ ٹائیفائیڈ سمیت 11وائرسز کی ویکسین‘ جس مقدار و مالیت کی درآمد کی جاتی ہے‘ اس کے نصف سے بھی کم میں چاروں صوبوں میں ویکسین کی تیاری کے پلانٹس لگائے جاسکتے ہیں‘ مگر کیا کیا جائے کہ اس طرح کے مشورے تو ماہرین کی جانب سے دیگر ایشوز پر دئیے جاتے رہے ہیں‘ جیسا کہ جس مقدار میں صاف پانی خریدا جاتا ہے‘ اس سے سمندری اور کھارا پانی صاف کرنے کا پلانٹس لگ سکتا ہے‘ کچرا تلف کرنے پر جتنے اخراجات کیے جاتے ہیں‘ اس سے کم میں کچرا تلف کرنے کا پلانٹ خود لگایا جاسکتا ہے‘ اس طرح کے درجنوں مشورے ناصرف موجود ہیں‘ بلکہ ان کی ابتدائی سطح پر منصوبہ بندی بھی ہوچکی ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ کوئی اس پر عمل کرنے کو تیار ہی نہیں۔مختلف ممالک میں کتوں کو بلاتفریق ویکسین دی جاتی ہے اور ویکسی نیشن کے بعد کتوں کے گلے میں ٹیگ لگا دیا جاتا ہے ۔ ویکسی نیشن کے بعد اگر کتا کسی کو کاٹ بھی لے تو متاثرہ شخص کو ریبیز ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی ‘بلکہ اس کے زخم کی صرف مرہم پٹی کردی جاتی ہے۔ اب‘ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں انسانوں کے لیے ہی ویکسین موجود نہیں‘ تو کتوں کے لیے کہاں سے انتظام کیا جائے گا؟ ملک میں کتوں کو ویکسین دینے کی بجائے مارا جاتا ہے اور اس کے لیے زہر اور شوٹرز کی مدد لی جاتی ہے۔ 
مقام حیرت ہے کہ سندھ میں کتوں کے مارنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے‘ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آصفہ بھٹو زرداری کتوں سے خصوصی محبت کرتی ہیں اور انہیں کتوں کا قتل عام برداشت نہیں۔ اس وجہ سے کتوں کو مارنے کا عمل روکا جاچکا‘ جبکہ کتوں کی طرف سے انسانوں کو مارنے کا عمل جاری ہے‘ جس کا کوئی اثر حاکم سندھ اور آل حاکم پر نہیں ہوتا۔ محکمہ صحت سندھ کے کچھ ذمہ داران سے بات ہوئی تو نئی سے نئی منطق سننے کو ملی‘ کبھی کہتے کہ کتوں کا ڈی این اے ہونا چاہیے‘ تاکہ پتا چل سکے کہ کون سا کتا کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔
اب‘ سنا ہے کہ اس پر سندھ حکومت یکسو ہوچکی ہے۔ کتوں کی نس بندی کی جائے گی ‘ تاکہ مارے بغیر کتوں کی نسلی افزائش روکی جاسکے اور اس حوالے سے پائلٹ پروجیکٹ پر کام شروع ہوچکا۔ یہ سندھ حکومت کی کتوں سے محبت اور حاکم سندھ اور اس کی آل کی جانوروں سے انسیت ہے ۔ باقی رہے تھر کے قحط زدہ بچے‘ لاڑکانہ کے ایڈز سے متاثرہ بچے‘ سندھ کے پانی سے متاثرہ ہیپاٹائٹس کا شکار بچے ‘ تو ان کے حقوق ان سگوں جتنے ہوجائیں گے‘ تو پھر ان کے بارے میں بھی سندھ حکومت کچھ سوچے گی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں