"FBC" (space) message & send to 7575

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری میں ایک استاد رہا کرتے تھے جو شعبہ ریاضی میں پی ایچ ڈی تھے ۔ کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے پیشکش موجود ہونے کے باوجود سرکاری سکول میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ دھوبی گھاٹ کے قریب ان کا گھر تھا جس کے گرائونڈ فلور میں انہوں نے ایک چھوٹی سی لائبریری اور ٹیوشن اکیڈمی قائم کررکھی تھی اور بالائی منزل پر ان کی رہائش تھی۔ ٹیوشن اکیڈمی میں وہ بچوں کو مفت تعلیم دیا کرتے تھے اور ان کی لائبریری میں بیٹھ کر علم کی پیاس بجھانے والوں کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں تھی۔ میں عمومی طور پر عصر کے وقت ان سے ملنے جاتا ، ایسا میں اس لیے کرتا تھا کہ جب وہ نماز پڑھ کر واپس آتے تھے تو ان کے طلبہ جو آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہوتے، اچانک سیدھے کھڑے ہوجاتے ، نگاہوں کے ساتھ ساتھ سر بھی جھک جاتے ۔ میرے لیے یہ منظر بہت کشش رکھتا تھا ، استاد کا اس درجہ احترام اب یا تو صرف کتابوں میں ملتا ہے یا ان کہانیوں میں جو ہمارے بزرگ اپنے زمانہ طالبعلمی کی سناتے ہیں۔ آج استاد کا یہ احترام ناپید ہوچکا ہے ، یقینی طور پر اس کے ذمہ داردونوں فریق ہی ہیں جس پر پھر کبھی بات کریں گے۔ یہ بلوچ استاد لسانی خون ریزی کے دوران متعدد بار نشانہ بننے کے بعد اب پاکستان چھوڑ چکے ہیںمگر ان کے شاگر آج بھی تذکرہ ہونے پر اپنے روحانی باپ کے احترام میں نگاہیں و سر جھکا لیتے ہیں۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ان کے چند طلبہ جو اب معروف کمپنیوں کے ساتھ کام کررہے ہیں ، اپنے استاد کے نام سے کوئی اکیڈمی بنانے جارہے ہیں۔
ان بلوچ استاد کے بعد اگر کسی دوسرے استاد کا اس درجہ احترام میرے مشاہدے میں آیا تو وہ شعبہ صحافت میں سینکڑوں صحافیوں کے استاد محترم اطہر علی ہاشمی صاحب تھے جو74سال کی عمر میں چند روز قبل اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔وہ 44برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور کراچی کے ایک مقامی اخبار میں ایڈیٹر انچیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
ان کی زندگی کے ابتدائی ایام کا ذکر ہوتو پتا چلتا ہے کہ وہ بہاولپور میں پیدا ہوئے ،بچپن میں ہی والدہ کے انتقال کے بعد خالہ کے گھر میں پرورش پائی۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن، جامعہ کراچی سے تاریخ میں ایم اے اور قائد اعظم یونیورسٹی سے ''علائوالدین خلجی کے معاشی نظام‘‘ پر ایم فل کیا اور پھر ''اتفاقیہ طور پر ‘‘ وہ شعبہ صحافت کی جانب آگئے۔ پاکستان کے معروف اردو جریدوں کے ساتھ وابستہ رہے، سعودی عرب میں اردو نیوز کے بانیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ وہ انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت پر مضبوط گرفت رکھتے تھے جبکہ اردو سے انہیں عشق تھا۔ ان کے کالم مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ اردو سے عشق کا یہ عالم تھا کہ اردو کے غلط العام الفاظ کو درست کرنے کے لیے ''خبر لیجئے زباں بگڑی ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے جو اس قدر مقبول ہوا کہ کئی برقی و اشاعتی میڈیا اداروں کی ویب سائٹس یہ کالم شکریہ کے ساتھ شائع کرتی تھیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں 6سال ان سے براہِ راست سیکھنے والوں میں شامل رہا۔اس عرصے کے دوران لاتعداد ایسے واقعات ہیں جو ان کی شخصیت کے مختلف پہلو اجاگرکرتے ہیں۔
ایک واقعہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا؛ میں ایک خبر لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے خبر دیکھنے کے بعد پوچھا ''خبر پکی ہے نا؟‘‘ ، ان کی اس بات سے میں پریشان ہوگیا ،اس لیے کہ میں کئی تحقیقاتی رپورٹس ایسی دے چکاتھا کہ جس کا ''خمیازہ‘‘ انہوں نے بطور ایڈیٹر بھگتا تھا مگر انہوں نے کبھی ایسا سوال نہیں کیا اور پھر ان کے مجھ پر بھروسے کا یہ عالم تھا کہ محض ایک سال میں انتظامیہ سے مجھے چیف رپورٹر تعینات کرنے کی سفارش کردی تھی۔ اس لیے اس عمومی رپورٹ پر ان کے یہ الفاظ میرے لیے حیران کن تھے۔ میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے انہوں نے خود ہی بات کی وضاحت کی ''میاں! تم تو یہ خبر دے کر گھر جا کر سوجائو گے ، مگر صبح جب یہ چھپے گی تو مجھے اپنے گھر میں جواب دینا پڑے گا ، کیونکہ یہ خبر ہماری اہلیہ کے خلاف ہے‘‘۔ 
یہ سنتے ہی میں نے خبر واپس لینے کے حوالے سے کہا مگر انہوں نے جواب دیا کہ اگر خبر ٹھیک ہے تو یہ لازمی جائے گی اور پھر اگلے دن کے اخبار میں خبر شائع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر خبر ٹھیک ہے تو وہ رکنی نہیں چاہئے۔ پھر اسی طرح کراچی میں وکلاء کو زندہ جلایا گیا تو اس حوالے سے میری ایک تحقیقاتی رپورٹ جس میں جلانے کے لیے استعمال ہونے والے بھارتی مواد اور اس کے کراچی پہنچائے جانے کی تفصیلات تھیں‘ شائع ہوئی جس کے بعد کراچی کے نام نہاد لسانی ٹھیکیداروں نے اخبار کی عمارت کو اسی بارود سے راکھ کرنے کی دھمکی دی ۔ دھمکی آمیز کالیں ایڈیٹر صاحب کے پاس آرہی تھیں ، میں ان کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ انتہائی اطمینان سے ہر فون کال خود سنتے اور جواب دیتے کہ خبر مستند ہے اس لیے اس کی اشاعت کوئی نہیں روک سکتا اور پھر اگلے روز وہ خبر بطور''سپرلیڈ‘‘ شائع ہوئی۔ع
ایسا کہاں سے لائوں کہ تجھ سا کہیں جسے
کوچہ صحافت میں ہاشمی صاحب کا کیبن وہ گھونسلا تھا جہاں نومولود صحافیوں کو پرواز کی تربیت دی جاتی تھی اور پھر انہیںفضا میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ کئی بڑے میڈیا اداروں نے انہیں پُرکشش پیشکش کے ذریعے اپنے پاس بلانے کی کوشش کی مگر انہوں نے اپنا یہ گھونسلا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ ان سے ملنے والا ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ وہ ان کے سب سے زیادہ قریب ہے، انتہائی سادگی سے ملتے اور دل میں اتر جاتے۔بڑی سے بڑی بات انتہائی شگفتگی و شائستگی سے اس طرح سمجھا دیتے تھے کہ آدمی حیران رہ جاتا تھا۔ ہر ماتحت اس وقت حیران رہ جاتا تھا جب اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے ایڈیٹر انچیف خود فون کرتے تھے۔
ان کے ہم عصر شامی صاحب انہیں اردو کا استاد قرار دیتے ہیں تو وسعت اللہ خان صاحب جیسے سینئر صحافی کہتے ہیں کہ '' وہ میرے استاد تھے اور میں نے الفاظ وجملوں کو برتنے کا سلیقہ ان سے سیکھا‘‘۔ آج ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں جو شعبہ صحافت میں موجود ہیں ۔ ان کی اطہر ہاشمی صاحب سے محبت ،عقیدت اور احترام کا اندازہ‘ ہاشمی صاحب کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں سے لگایا جاسکتا ہے ۔
لیاری کے بلوچ استاد ہوں یا صحافت کے اطہر علی ہاشمی صاحب، ایسا درجہ اللہ اپنے مخصوص لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ ہاشمی صاحب کے حوالے سے اے ایچ خانزادہ صاحب کے اشعار پر اختتام کرتے ہیں ؎ 
یہاں ہر اک سمجھتا تھا کہ بس اس کا ہی ہے جگری
پریشانی میں بھی جس کا لب و لہجہ تھا بے فکری
بہت بے باک لکھتا تھا تھی اس کی گفتگو مصری
صحافت بال کھولے ہے قلم کی زلف ہے بکھری
وہ اطہر ہاشمی یعنی کہ اسم بامسمیٰ ہی
قلم کاروں سے کہتا تھا خبر لیجئے زباں بگڑی

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں