"FBC" (space) message & send to 7575

’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کا انجام

میانمار (برما) کی فوج نے دھاندلی سے انتخابات جیتنے کا الزام لگاتے ہوئے آنگ سان سوچی کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا۔
آنگ سان سوچی کے ساتھ جوا ہوا‘ یہ تیسری دنیا کے ممالک کا المیہ ہے مگر صد افسوس کہ ایسے واقعات سے عبرت نہیں پکڑی جاتی۔ ہوسِ اقتدار میں ساری جمع پونجی دائو پر لگا دی جاتی ہے اور پھر عمر کے آخری ایام اپنے خالی دامن کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے گزارے جاتے ہیں۔ سوچی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ جب 1988ء میں وہ اقوام متحدہ سے اپنی ملازمت چھوڑ کر میانمار آئی تو اس نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت اس کی عمر 43 برس تھی۔ یہ وہ دور تھا جب میانمار کے سیاسی منظر نامے میں صرف برمی فوج کی کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کا راج تھا اور کسی دوسری قوت کی جگہ بظاہر نظر نہیں آتی تھی۔ ایسے میں ایک نئی جماعت ''نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی)‘‘ کا جنم ہوا۔ اس جماعت کی ویسے تو پشت پناہی میانمار کی فوج کے سابق افسران ہی کر رہے تھے جو حاضر سروس فوجی افسران سے شدید اختلافات رکھتے تھے مگر این ایل ڈی کو ایسی قیادت میسر نہ تھی جس کی شخصیت اپنے گرد عوام کو جمع کر سکے۔ آنگ سان سوچی نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس جماعت کی قیادت سنبھال لی۔ سوچی جانتی تھی کہ عافیت صرف آمروں کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہے مگر اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے نتائج سے وہ بخوبی آگاہ تھی۔ اس نے بہت سوچ سمجھ کر وہ راستہ چنا جو پُرخطر تھا اور اس پر ہر وقت سخت مراحل درپیش تھے۔ پھر ایسا ہی ہوا، سوچی نے اپنی نئی جماعت کی قائد کے طور پر ملک پر قابض فوجی حکمران جنرل نیون کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ عوام میں طویل فوجی اقتدار کے خلاف اور جمہوریت کی حمایت میں اس نے کچھ اس طرح راہ ہموار کی کہ صرف دو سال بعد ہی 1990ء میں ہونے والے انتخابات میں این ایل ڈی میانمار فوج کی کٹھ پتلی جماعتوں کو شکست دیتے ہوئے نہ صرف کامیاب ہو گئی بلکہ 81 فیصد ووٹ حاصل کر کے آمریت پسندوں کے لیے ایک واضح خطرہ بن گئی۔
ایک جمہوریت پسند کی اتنی بڑی کامیابی آمروں کو ایک آنکھ نہیں بھائی‘ سو انہوں نے اقتدار این ایل ڈی کے حوالے کرنے کے بجائے این ایل ڈی کی قیادت کو سوچی سمیت نظر بند کر دیا۔ یہ نظر بندی بھی اس کے عزائم میں حائل نہ ہو سکی اور اس نے نظربندی کے دوران ہی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ بیس سال گھر میں نظر بند رکھنے کے بعد 2010ء میں سوچی کو رہائی ملی تو وہ اپنی ہمت و استقامت سے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی برادری میں بھی اپنا ایک مقام بنا چکی تھی۔ اس کی اس طویل جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے 2012ء میں اسے نوبیل پیس پرائز اور پھر اسی سال سخاروف ایوارڈ دیا گیا۔ آمریت کے خلاف سوچی کی جدوجہد ابھی جاری تھی کہ میانمار کی فوجی کمان نے ملک میں اقلیتوں کے قتل عام کی چھوٹ دے دی۔ 2012ء میں ہی بدھ مت انتہا پسندوں کے مسلح جتھوں نے مسلمان آبادیوں میں ایسی خون ریزی کی کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس موقع پر سوچی میدان میں آئی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی۔ سوچی نے اس موقع پر کھل کر نہ صرف مسلمانوں کی حمایت کی بلکہ اقلیتوں پر حملے کرنے والے بدھ مت کے انتہاپسندوں اور ان کے پشت پناہ جرنیلوں کے لتے لینا شروع کر دیے۔ اس عمل نے اسے شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا جس کا نتیجہ 2015ء کے انتخابات میں این ایل ڈی کی کامیابی کی صورت نکلا جس میں سوچی کی جماعت نے ماضی سے زیادہ 83 فیصد ووٹ حاصل کیے۔یہی وہ موقع تھا جب آن سانگ سوچی کم ظرفی دکھا گئی اور پھر اس نے جو نیک نامی و شہرت کمائی تھی وہ سب ضائع کر دی۔ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن لے لیا۔ یہاں سے دنیا نے اس کا ایک علیحدہ روپ دیکھا۔
آن سانگ سوچی نے آمریت اور اس کے ہرکاروں کے خلاف اپنی بیس سالہ نظربندی سمیت پوری جدوجہد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میانمار کے فوجی جرنیلوں کے اشاروں پر چلنا شروع کر دیا۔ انسانی حقوق کی علمبرداری اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے تمام دعوے ہوا ہو گئے۔ پھر دنیا نے اس سوچی کو دیکھا جو ذبح ہوتے روہنگیا مسلمانوں کو جھوٹا اور میانمار کی فوج روہنگیا کی نسل کشی کے لگے الزامات کو بے بنیاد کہتی۔ جو اپنے جیسے انسانوں کی بے حرمتی پر خاموش رہتی اور معصوم بچوں کو آگ میں اچھال کر قہقہے لگاتے فوجی درندوں کی پشت پناہی کرتی دکھائی دیتی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ دنیا بھر میں ماضی کی انسانی حقوق کی چیمپئن قرار دی جانے والی سوچی پر تنقید شروع ہو گئی۔ سوچی نے کسی تنقید کو قابلِ توجہ نہ گردانا اور بدستور میانمار کے فوجی جرنیلوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دفاع کرتی رہی۔ اس کی ہوسِ اقتدار اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ اپنا ماضی، اپنے دعوے، اپنے وعدے، سب بھلا کر صرف مسندِ اقتدار پر قابض رہنے کے لیے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کا دفاع کرتی رہی۔ دس لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ملک بدر کر دیے گئے، چالیس ہزار سے زائد لاپتا اور قتل ہو گئے، سینکڑوں خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔ یہ سب کچھ اسی سوچی کے زیر نگرانی ہوا جو کبھی جمہوریت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ عالمی عدالت میں قاتل فوج کے دفاع کے لیے سوچی ہی میدان میں آئی۔ سو سے زائد روہنگیا مسلمان‘ جن کے خاندان کے خاندان قتل کر دیے گئے تھے‘ جب عالمی عدالت میں عینی شاہدین کے طور پر گواہی دے رہے تھے تو یہ سوچی ہی تھی جو اُن لٹے پٹے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو جھوٹا قرار دے رہی تھی۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سوچی نے میانمار کے جرنیلوں کے ہر گناہ کا دفاع اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ اس کے لیے جو ایشو سب سے زیادہ تنقید اور سخاروف ایوارڈ واپس لیے جانے کا باعث بنا وہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے حقائق دنیا تک پہنچانے والے صحافیوں کا قتل تھا۔ اسے میانمار فوج کے سربراہ من آنگ ہلاینگ کو صحافیوں کے قتل کے احکامات دینے کا ذمہ دار گردانا گیا اور پھر جب اس حوالے سے عالمی عدالت میں مقدمہ آیا تو اسی جرنیل کے دفاع کے لیے سوچی عدالت میں کھڑی تھی۔ غرض اپنا اقتدار بچانے اور مسندِ اقتدار پر براجمان رہنے کے لیے آنگ سان سوچی نے اپنے شاندار ماضی، صاف گو اور انسان دوست ہونے کے القابات، سخت اور طویل جدوجہد کے اعترافات میں عالمی سطح سے ملنے والی عزت و پذیرائی کو لات مار دی۔ دنیا بھر میں تنقید، لعنت و ملامت کا نہ صرف نشانہ بنی بلکہ انسانیت سوز مظالم کی پشت پناہی کرنے پر اسے کئی ملکوں میں ناپسندیدہ فرد بھی قرار دیا گیا۔ پھر ہوا یہ کہ وہ جو اصل میں لعنت و ملامت کے حقدار تھے‘ انہوں نے سوچی کو ایک بار پھر وہیں پہنچا دیا جہاں سے اس نے اپنی جدوجہد شروع کی تھی، یعنی گرفتار کرکے نظربند کر دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوچی کی جماعت 2015ء میں انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی تھی مگر اسے اقتدار منتقل نہیں کیا گیا تھا بلکہ سیاسی سیٹ اپ کے سامنے میانمار کی فوج کی جانب سے ملکی حالات کی سنگینی کو جواز بناتے ہوئے اپنے سربراہ جرنل من آنگ ہلاینگ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مطالبہ رکھا گیا۔ غیر ملکی جریدے ''دی ڈپلومیٹ‘‘ کے مطابق‘ سوچی نے اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کے بعد میانمار کی فوج کے مطالبے کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے جنرل ہلاینگ کو پانچ سال کی توسیع دے دی۔ جنرل ہلاینگ نے پانچ سال کی توسیع ملنے کے بعد ہی اقتدار کی منتقلی کا عمل پورا ہونے دیا تھا۔ اب جب جنرل ہلاینگ کی مدتِ ملازمت ایک بار پھر رواں سال اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو اس نے سوچی کو گھر بھیج کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
یہ صرف میانمار کی داستان نہیں بلکہ تیسری دنیا کے ممالک میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہوتی ہیں مگر جانے وہ سمجھتے کیوں نہیں۔ محضِ مسند اقتدار کے لیے اپنی عمر بھر کی پونجی (عزت و نیک نامی) دائو پر لگا دیتے ہیں اور آخر میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں