"FBC" (space) message & send to 7575

عوام بھی ٹھیک نہیں ملے؟

''عوام لاپروائی کر رہے ہیں، کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا، صورتحال سنگین ہو سکتی ہے‘‘۔ یہ وہ بیانات ہیں جو آج کل تواتر کے ساتھ حکومتی حلقوں کی جانب سے سننے میں آ رہے ہیں۔ صبح اٹھ کر سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو یہی پیغامات ملتے ہیں، ٹی وی سکرینوں پر دیکھیں تو عوام ہی لفظی گولہ باری کا نشانہ بن رہے ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارا قصور غیر سنجیدہ عوام کا ہی ہے جنہیں اپنی جان کی پروا نہیں۔ حکمران بے چارے تو دن رات اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
حکومتی شاندار کارکردگی بس بیانات میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگر زمینی حقائق پر غور کرنا شروع کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فیصد عوام بھی حکومتی حمایت میں نہیں ہیں۔ حکومت اس مسئلے کا حل یہ نکالتی ہے کہ سارا ملبہ عوام پر گرا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ جب کورونا کی پہلی لہر آئی تو حکومت نے جو ہدایات جاری کیں‘ عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے ان پر عمل کیا گیا، بعد ازاں حکومتی ڈھیل نے عوام کو لاپروا بنا دیا۔ ویسے تو حکمران چاہتے ہیں کہ لوگ من و عن ان کے ہر حکم کی تعمیل کریں مگر اس کے لیے غور کرنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح کیا ہے اور عوام میں کورونا کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ خیر! حکومت نے عوام سے گھروں میں رہنے کے لیے لاک ڈائون، سمارٹ لاک ڈائون اور مائیکرو لاک ڈائون کا سہارا لیا تو عوام گھروں میں مقید ہو گئے۔ اسی دوران دہاڑی دار طبقہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوگیا اور حکومتی نااہلی کے باعث اشیائے خور ونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ جب سکول بند کیے گئے تو یہی عوام تھے جنہوں نے اپنے بچوں کو گھروں پر بٹھا لیا۔ اس موقع پر چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت سکولوں کو بھی ہدایات جاری کرتی کہ بچوں سے مکمل فیسیں نہ لی جائیں، کوئی شیڈول بنا کر دیا جاتا اور تعلیمی اداروں کو اس پر عمل کرنے کا پابند کیا جاتا، آن لائن کلاسز کے لیے ہر علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کیے جاتے تاکہ بچوں کا تعلیمی حرج کم سے کم ہو مگر ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ سکولوں نے اپنی مکمل فیسیں وصول کی، آن لائن کلاسز کے نام پر بچوں سے مذاق کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 60 فیصد حصے میں انٹرنیٹ کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں اور جہاں انٹرنیت موجود تھا وہاں سپیڈ ایسی نہیں تھی کہ آن لائن کلاسز کا انعقاد ممکن ہو سکتا۔ صحت کی سہولتوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی رہا۔ حکومتی پالیسیوں نے متوسط طبقے کو مفلوک حال بنا دیا، ایسے میں غریب اگر مزدوری کے لیے گھر سے نہ نکلے تو بھی مرتا اور نکلتا تو بھی موت نظر آتی تھی، سو اس نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے حکومت سے کوئی امید نہیں تھی۔
حکومت و عوام میں معاملات دو طرفہ ہوتے ہیں۔ اگر لوگوں کو یقین ہو کہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرے گی تو وہ حکومتی ہدایات پر عمل بھی کرتے۔ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کا چارٹ بنا کر انہیں حل کرنے کے بجائے‘ اپنی حکمت عملی کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا۔ یہ شور و غوغا ابھی جاری تھا کہ کورونا کی تیسری لہر نے ملک کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس تیسری لہر کے پھیلائو کے ذمہ دار مکمل طور پر عوام نہیں تھے، حکومت بھی برابر قصوروار تھی۔ کورونا کی تیسری لہر کو ''یو کے ویریئنٹ‘‘ کہا جا رہا ہے یعنی برطانیہ سے آنے والے مسافروں کے ذریعے یہ وبا پاکستان میں پھیلی ہے۔ اب ماہرین یہ بتا رہے ہیں کہ یہ صرف یو کے ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ 13مختلف ویریئنٹ ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ جب ہمارے حکمران کورونا کو شکست دینے کے حوالے سے اپنی کامیابی کے ڈھول پیٹ رہے تھے عین اسی وقت دنیا میں سفری پابندیاں نرم کر دی گئی تھیں۔ اس نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں پھنسے لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں کا رخ کیا۔ جب ہمارے حکمران کورونا کو شکست دینے کی ''پاوری‘‘ کرنے میں مصروف تھے‘ عین اسی وقت دنیا کے دیگر ممالک اپنے داخلی راستوں پر باہر سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ میں مشغول تھے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ساڑھے تین لاکھ پاکستانی مختلف ممالک سے اپنے وطن پہنچے ہیں۔ ان مسافروں کی سکریننگ کے لیے کوئی موثر انتظام نہیں کیا گیا۔ یہ افراد بڑے شہروں سے سفر کرتے ہوئے اپنے آبائی علاقوں میں گئے اور عام افراد میں گھل مل گئے۔ اس وقت تک کسی حکومتی ذمہ دار کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس انتظامی غفلت کے نتائج کس قدر ہولناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پنجاب و خیبر پختونخوا کے اکثر شہر کورونا کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اب حکومت ان حالات کا ذمہ دار عوام کو قرار دے رہی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے خطرناک حد تک پھیلائوکی وجہ اپنی نااہلی کے بجائے کورونا کا یوکے ویریئنٹ ہونا بتایا جا رہا ہے مگر یہ حقیقت نہیں بتائی جا رہی کہ جس برطانیہ سے اس کورونا کا تعلق ہے اور جہاں جنوری میں روزانہ پچاس سے ساٹھ ہزار کیسز رپورٹ ہو رہے تھے‘ وہاں حکومت نے بہترین اقدامات کے ذریعے اس خطرناک لہر کا پھیلائو بڑی حد تک کنٹرول کر لیا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اب وہاں صرف چار ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
باشعور قومیں سخت حالات سے گزر کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ جب کورونا کی پہلی اور دوسری لہر اپنے اختتام کو پہنچی تو دنیا کے تمام ممالک اپنے عوام کو اس وبا سے بچائو کی ویکسین فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ صرف ہمارے حکمران تھے جو محض باتیں بنا رہے تھے۔ عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے جب حکمرانوں کو باور کرایا جا رہا تھا کہ کورونا ویکسین کے حصول کی کوششیں تیز کی جائیں اس وقت حکومت منتظر تھی کہ عالمی ادارۂ صحت، ترقی یافتہ ممالک یا دوست ممالک کچھ امداد کریں۔ وہ ''چائنہ و چیریٹی‘‘ سے امید لگائے بیٹھے تھے۔ کبھی اعلان کیا جاتا کہ فلاں ملک سے ویکسین آ رہی ہے اور کبھی فلاں ملک سے ویکسین پہنچنے کی نوید سنائی جاتی۔ مگر ہوا کیا؟ اللہ بھلا کرے چین کا کہ اس کی بدولت ہمیں ساڑھے بارہ لاکھ ویکسین ڈوز نصیب ہوئیں۔ ان میں سے دس لاکھ ہیلتھ ورکرز کو لگائی گئیں جبکہ باقی ویکسین کے لیے بزرگ افراد کو رجسٹرڈ ہونے کے لیے کہا گیا۔ مفت آئے اس مال کو بھی بدانتظامی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ حال یہ رہا کہ یہ ویکسین بھی پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔ ایک جائزے کے مطابق 49 فیصد پاکستانی ویکسین لگوانے کے حق میں ہی نہیں اور ابھی تک حکومت نے کوئی ایسی کوشش بھی نہیں کی کہ ویکسین کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوئی مہم چلائی جائے۔ حکومتی شخصیات نے اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کو کورونا ویکسین لگوائی، پھر اس کی تشہیر سوشل میڈیا پر کر کے ثابت کیا کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد کو خاطر میں نہیں لاتے۔ سو جیسے عوام‘ ویسے حکمران۔
جب ساری دنیا اپنے شہریوں کے لیے ویکسین کا بندوبست کر رہی تھی‘ ہمارے حکمران مفت ویکسین کی تلاش میں تھے۔ انتظار کے باوجود کچھ ہاتھ نہ آیا تو خیال آیا کہ اب کچھ خریداری کرتے ہیں۔ چین کی دو کمپنیوں سائنوفارم اور کین سائنو کو 7 ملین ڈوز کا آڈر دیا گیا تو ان کمپنیوں کی جانب سے جواب ملا کہ آپ تاخیر سے آئے ہیں اور دنیا بھر سے ڈیمانڈ بہت بڑھ چکی ہے ،اس لیے آپ کو صرف 10 لاکھ 60 ہزار ڈوز فراہم کی جا سکتی ہیں۔ (جاری)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں