موجودہ پالیسیوں سے معاشی توازن بگڑ رہا ،بزنس کونسل

موجودہ پالیسیوں سے معاشی توازن بگڑ رہا ،بزنس کونسل

سرکاری اداروں کے نقصانات خزانے پر بھاری بوجھ بن چکے ،رپورٹ

کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)پاکستان بزنس کونسل نے ملکی معیشت کے عارضی استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کے باعث ٹیکس بوجھ میں اضافہ، سرمایہ کاری میں کمی اور مجموعی معاشی توازن بگڑ رہا ہے ۔پی بی سی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے مسلسل نقصانات ملکی خزانے پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں اور صرف 25 سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 832 ارب روپے کا نقصان کیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے انہی اداروں کو 2 کھرب روپے سے زائد مالی معاونت بھی فراہم کی ہے ۔ معاشی خاکے کے مطابق حکومتی اخراجات کا تقریباً 47 فیصد حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ مالی سال 2026ء کے اختتام تک سود کی ادائیگی 8.2 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ ملک کا ٹیکس نظام شدید عدم توازن کا شکار ہے جس میں تنخواہ دار طبقہ اور رجسٹرڈ کاروباری ادارے غیر متناسب ٹیکس بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اسکے ساتھ بینکوں نے نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے ۔فاقی ترقیاتی بجٹ 1 کھرب روپے سے کم ہو کر تقریباً 837 ارب روپے رہ گیا ہے ۔ 18ویں ترمیم کے بعد بھی صوبائی محکموں پر سالانہ تقریباً 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ترسیلات زر میں کمی اور درآمدات میں اضافہ زرمبادلہ ذخائر کو صرف تین ماہ کے درآمدی بل تک محدود کر رہا ہے ۔ پاکستان بزنس کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ 3 سالوں کے لیے تمام سرکاری اخراجات منجمد کیے جائیں اور سخت مالیاتی نظم و ضبط اپنایا جائے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں