ای او بی آئی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ملی بھگت کے انکشاف، ورکرز کے حقوق متاثر

ای او بی آئی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ملی بھگت کے انکشاف، ورکرز کے حقوق متاثر

بعض فیکٹری مالکان ورکرز کے فنڈز ای او بی آئی میں جمع کروانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ،سرکاری ریکارڈ میں ورکرز کے کوائف تو اپلوڈ کیے جاتے ، فنڈز جمع نہیں ہو تے ،بڑھاپے میں مزدور مراعات سے محروم

فیصل آباد (عبدالباسط سے )پرائیویٹ فیکٹریوں، ملز، انڈسٹریز اور دیگر یونٹس میں کام کرنے والے ملازمین کو میڈیکل، شادی الاؤنس، ڈیتھ الاؤنس، پنشن اور دیگر مالی مراعات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قائم ادارہ (EOBI میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ملی بھگت کے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ادارے کے بعض افسر اور ملازمین مبینہ طور پر صنعتی مالکان کیساتھ ملی بھگت کرتے ورکرز کے حقوق متاثر کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے بعض فیکٹری مالکان ورکرز کے فنڈز ای او بی آئی میں جمع کروانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں ورکرز کے کوائف تو اپلوڈ کیے جاتے ہیں مگر فنڈز جمع نہیں کروائے جاتے۔

کئی ورکرز ریٹائرمنٹ کے وقت پنشن اور دیگر مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں اور انہیں بڑھاپے میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے بعض کیسز میں ای او بی آئی کے افسر مبینہ طور پر دستاویزات میں تاخیر یا انہیں گم کرنے کے طریقے اختیار کرتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے وقت پنشن اور دیگر سہولیات حاصل کرنا ورکرز کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ۔مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بعض صنعتی مالکان مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں کو ماہانہ نذرانے اور تحائف دیتے ہیں تاکہ ان کے اداروں کے خلاف کارروائی نہ ہو سکے ۔مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ای او بی آئی کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے ، تمام مراعات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں