راشن کارڈ ایکٹیویشن میں غیر قانونی کٹوتیاں، چار گرفتار

راشن کارڈ ایکٹیویشن میں غیر قانونی کٹوتیاں، چار گرفتار

سینیٹری ورکرز سے رقم وصولی ، دو اہلکار رہا، شفاف تحقیقات اورکارروائی کا مطالبہ

کہروڑپکا (نمائندہ دنیا)ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت راشن کارڈز ایکٹیویشن کے نام پر مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں کا انکشاف ہونے پر پولیس نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مار کر چار افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ دو سرکاری اہلکاروں کو رہا کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق سینیٹری ورکرز کے راشن کارڈز فعال کرنے کے لیے سوشل سکیورٹی ملتان کی جانب سے افراد کو دفتر بلایا گیا جہاں فی ورکر تقریباً 400 روپے وصول کیے جا رہے تھے ۔ متاثرہ ورکرز کی شکایات پر تھانہ سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے موقع سے ڈیوائس اور متعلقہ افراد کو تحویل میں لے لیا۔اطلاعات کے مطابق ابتدائی کارروائی میں ذمہ داری ڈیوائس ہولڈرز پر ڈالی گئی جبکہ بعض سرکاری اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا۔ مزید یہ کہ ورکرز پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ملازمت سے نکالنے کی دھمکیوں کی بھی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔دوسری جانب سینیٹری ورکرز اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے ، تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں