ٹوبہ: 127سالہ تاریخی ریلوے سٹیشن زبوں حالی کا شکار
بنیادی سہولیات ناپید، پلیٹ فارم کی توسیع اور عمارت کی فوری مرمت کا مطالبہ
ٹوبہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ٹوبہ ٹیک سنگھ کا 127 سالہ قدیم تاریخی ریلوے سٹیشن حکومتی عدم توجہی اور ریلوے حکام کی غفلت کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے ، جہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ برصغیر کے دورِ انگریز میں 1899ء میں تعمیر ہونے والا یہ ریلوے سٹیشن تاریخی ورثے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اعتبار سے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے ، جہاں سے فیصل آباد، شورکوٹ، خانیوال، لاہور، پشاور اور کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں کے لیے ٹرینیں گزرتی ہیں۔سٹیشن کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ بارش کے دوران چھتیں ٹپکتی ہیں۔
ویٹنگ ہال، مسافر خانے ، بیت الخلاء اور دیگر کمرے انتہائی خستہ حال ہیں۔ پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام نہیں، نشستیں محدود اور صفائی کا نظام بھی ناقص ہے ۔ سوا صدی قبل تعمیر کیا گیا 265 فٹ طویل پلیٹ فارم مسافروں کی بڑھتی تعداد کے لیے ناکافی ہے ۔ ٹرینوں کے رکنے پر اکثر بوگیاں پلیٹ فارم سے آگے یا پیچھے رہ جاتی ہیں، جس سے مسافروں کو چڑھنے اور اترنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بارش کے دوران پلیٹ فارم پر پانی جمع ہوجاتا ہے جبکہ روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے سے رات کے اوقات میں خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ شہریوں نے وفاقی وزیر ریلوے اور اعلیٰ حکام سے سٹیشن کی فوری بحالی، پلیٹ فارم کی توسیع، مسافر خانوں اور ویٹنگ ہال کی مرمت، بیت الخلاء و صاف پانی کی فراہمی، عملے کی تعیناتی اور سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments