اٹامک انرجی کمیشن 21کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک چلا رہا
عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون میں اہم سنگِ میل عبور کرلیا
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بین الااقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ۔ اس سلسلے میں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (انمول)، اٹامک انرجی کینسر ہسپتال لاہور کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے علاقائی تعاون کے مرکز قرار دینے کی تختی باضابطہ طور پر پیش کی گئی ۔ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ تقریب لاہور انمول میں ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اٹامک انرجی کے کینسر ہسپتال ملک بھر کے مریضوں کے لیے حقیقی معنوں میں امید کی کرن ہیں کیوں کہ یہاں کسی بھی مریض کو علاج سے محروم نہیں رکھا جاتا۔ ڈی جی نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی ڈاکٹر شازیہ فاطمہ نے کہا کہ دنیا کے 45ممالک میں 92کولیبریٹنگ سینٹرز موجود ہیں اور اس عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی نمایاں نمائندگی قومی فخر کا باعث ہے ۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک بھر میں 21کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے ، جہاں ملک کے تقریباً 80فیصد کینسر مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انمول ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریضوں کو ریڈیوتھراپی، کیموتھراپی اور نیوکلیئر میڈیسن کی سہولیات انتہائی کم لاگت پر فراہم کرتا ہے ۔