ایران کا ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونا بڑی غلطی، تنظیم اسلامی
یوکرین افزودہ یورینیم اور ایٹمی ہتھیار دوسروں کے حوالے کرنے کانتیجہ بھگت چکامعاہدوں کے باوجود صیہونی گریٹر اسرائیل مشن ترک نہیں کرینگے ، شجاع الدین
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)ایران کا ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہو جانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یوکرین نے افزودہ یورینیم اور ایٹمی ہتھیار دوسروں کے حوالے کرنے کا جو نتیجہ بھگتا وہ تاریخ کا ایک کڑوا سچ ہے ۔ معاہدوں کے باوجود صیہونی اپنے مشن یعنی گریٹر اسرائیل کے قیام کو ترک نہیں کریں گے ۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکہ، اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ کو عارضی رکوانے اور خطے میں نسبتاً امن کیلئے قابلِ قدر کردار ادا کیا، اور اب امریکہ عارضی جنگ بندی کو مزید بڑھانے پر رضامند دکھائی دیتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ذی شعور ملک اگر یورینیم افزودگی اور ایٹم بم کی صلاحیت رکھتا ہو تو اُسے دشمن پر رعب جمائے رکھنے کیلئے ہر حال میں مزاحم کے طور پر جوہری ہتھیار بنا لینے چاہئیں، حقیقت یہ ہے کہ آج سے کم و بیش 30 برس قبل یوکرین نے سابق سوویت یونین کی شکست کے بعد اپنی سرزمین پر موجود ایٹمی ہتھیار اور یورینیم کی افزودگی کو امریکہ، برطانیہ اور روس کی اِس ضمانت پر روس کے حوالے کر دیا تھا کہ اُس پر حملے کی صورت تینوں ضامن اُس کا دفاع کرینگے ۔ لیکن جب 2022ء میں روس نے 1994ء میں کیے گئے اُس معاہدے کو تار تار کرتے ہوئے یوکرین پر حملہ کر دیا تو کسی ضامن نے حملہ آور کو روکنے کے لیے فوجیں نہ بھیجیں اور آج یوکرین ملبہ کا ایک ڈھیر بن چکا ہے۔