زیر التو ترقیاتی منصوبے شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ بن گئے
نمونیہ، چیسٹ انفیکشن، نزلہ، زکام، جلدی امراض اور آنکھوں کا انفیکشن عام ،شہری سانس و دمہ کے ا مراض میں مبتلا ہونے لگےشہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کراچی کی فضا میں مضر صحت ذرات پی ایم 2.5 میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،تحقیق میں انکشاف
کراچی(این این آئی)کراچی کی سڑکوں پراڑتا زہریلا گرد و غبار اور شہر میں زیر التو ترقیاتی منصوبے شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بن گئے۔ تحقیق کے مطابق شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کراچی کی فضا میں مضر صحت ذرات پی ایم 2.5 میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سالانہ 39 کلوٹن آلودہ ذرات پی ایم 2.5 فضا میں شامل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے شہری ہر سال اوسطا ً1.86 کلو زہریلے ذرات سانس کے ذریعے جذب کر رہے ہیں۔شہر کی فضا میں 203 کلوٹن کاربن مونو آکسائیڈ، 100 کلو ٹن سے زائد نائٹروجن آکسائیڈ اور 15.6 کلو ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہورہا ہے جس کی وجہ سے فضا خطرناک حد تک مضر صحت ہوچکی ہے ۔یونیورسٹی روڈ سے روانہ گزرنے والے شہری سانس و دمہ کے ا مراض میں مبتلا ہونے لگے جبکہ نمونیہ، چیسٹ انفیکشن، نزلہ، زکام، جلدی امراض اور آنکھوں کا انفیکشن عام ہوگیا ہے ۔
یہ زہریلی فضا بچوں کے لیے اور بھی زیادہ مہلک ثابت ہورہی ہے اور چھوٹے بچوں تیزی سے دمہ میں مبتلا ہورہے ہیں اسی طرح شہر میں گرین ہاؤس گیسز کا خراج بھی فضا کو زہریلا بنارہا ہے ۔اس ساری صورتحال کے پیش نظر ماہرماحولیات و اربن پلانرمحمد توحید نے شہر میں ماحولیاتی ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کردیا ہے ۔محمد توحید نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی منصوبے فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں جس سے شہر میں آلودگی کے سبب فضا انتہائی زہریلی ہوچکی ہے اور ان سے اڑتا گرد و غبار انسانی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مٹی میں پائے جانے والا آلودہ ذرہ پی ایم 2.5 انسانی صحت کے لیے مہلک ہے یہ ذرات انسانی جسم میں داخل ہو کر نظام تنفس کو شدید متاثر کرتا ہے اسی طرح گرین ہاس گیس کا اخراج بھی شدید مصر صحت ہے ۔محمد توحید نے کہاکہ صنعتی شعبہ 49 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہے ٹرانسپورٹ آلودگی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے جبکہ بندرگاہی علاقوں کے اطراف آلودگی کی شرح زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاور پلانٹس سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اخراج تشویشناک ہے صنعتی کنٹرول اور گاڑیوں کی نگرانی سے صورتحال بہتر ہوسکتی ہے جبکہ موثر اقدامات سے آلودگی میں 50 فیصد کمی ممکن ہے ۔