ایف بی آرکا ٹیکس نظام پیچیدگیوں کا سبب بن رہا، زبیر گھانگرا
سپلائی چین کے مختلف مراحل پرغیر ضروری دباؤ، صنعتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوئیریٹیل مارکیٹ کابڑا حصہ اب بھی غیر رجسٹرڈ دکانداروں پرمشتمل، چیئرمین سائٹ حیدرآباد
حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیر گھانگرا نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ایف ایم سی جی سیکٹر اور خصوصاً فوڈ انڈسٹری پر سیکشن 236G اور 236H کے تحت ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کا موجودہ نظام کاروباری طبقے کے لیے شدید مشکلات اور انتظامی پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے ۔ یہ نظام عملی طور پر سپلائی چین کے مختلف مراحل پر غیر ضروری دباؤ پیدا کر رہا ہے جس سے صنعتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریٹیل مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر مشتمل ہے ، جس کی وجہ سے ٹیکس کا بوجھ بنیادی طور پر مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز پر منتقل ہو جاتا ہے ۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ منظم اور رجسٹرڈ سیکٹرپر غیر متناسب دباؤ بھی بڑھ رہا ہے ۔زبیر گھانگرا نے کہا کہ اس صورتحال نے ایف ایم سی جی اور فوڈ انڈسٹری کے کیش فلو کو متاثر کیا ہے ، جبکہ دستاویزی تعمیل کے تقاضے بھی غیر ضروری حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری آسانی متاثر ہو رہی ہے اور کم مارجن والی اشیاء پر اضافی دباؤ پیدا ہو رہا ہے ، جو بالآخر صارفین اور معیشت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کے باعث غیر رسمی معیشت کو بھی بالواسطہ تقویت مل رہی ہے۔