پولیس کا ایندھن بند، ججز کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی ڈیوٹیز معطل
5اپریل سے فیول سپلائی نہیں ہورہی ،پی ایس او نے واجبات کی عدم ادائیگی پر ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر معطل کردی محکمہ داخلہ کی اضافی فنڈز کے لیے وزیر اعلیٰ کو بھیجی گئی سمری زیرالتوا ہے ،ایس ایس پی سکیورٹی ونکاایڈیشنل آئی جی کومراسلہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس کے سکیورٹی ون یونٹ کے لیے ایندھن کا بجٹ ختم ہونے کے باعث معزز ججز کو فراہم کی جانے والی پولیس اسکواڈ اور سکیورٹی ڈیوٹیز معطل ہوگئیں، ایس ایس پی سکیورٹی ون نے فوری فنڈز کی فراہمی کے لیے اعلیٰ حکام کو مراسلہ ارسال کردیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سکیورٹی ون کراچی کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج کو ارسال مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ یونٹ کے لیے مختص ایندھن مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے جبکہ 5 اپریل 2026 سے فیول سپلائی بھی بند ہے ۔ مراسلے کے مطابق مارچ 2026 کے 1 کروڑ 88 لاکھ 61 ہزار 355 روپے اور اپریل 2026 کے 2 کروڑ 52 لاکھ 13 ہزار 922 روپے کے واجبات پاکستان اسٹیٹ آئل کو ادا نہیں کیے جاسکے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ محدود فنڈز کے باعث صرف 63 لاکھ 40 ہزار 766 روپے ادا کیے گئے جبکہ مجموعی بقایا رقم 3 کروڑ 77 لاکھ 34 ہزار 512 روپے تک پہنچ گئی۔ پی ایس او نے واجبات کی عدم ادائیگی پر پولیس گاڑیوں کو ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر معطل کردی ہے ۔ ایس ایس پی سکیورٹی ون کے مطابق سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن نے ابتدائی طور پر ایک ارب 17 کروڑ 57 لاکھ 40 ہزار روپے کے اضافی بجٹ کی درخواست کی تھی تاہم بعد ازاں پی او ایل بجٹ کی جانچ پڑتال اور ویٹنگ کے بعد یہ درخواست کم کرکے 6 کروڑ 79 لاکھ 18 ہزار 155 روپے کردی گئی۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ نے اضافی فنڈز کی منظوری کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر رکھی ہے جبکہ محکمہ خزانہ کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات اور سوالات کے جوابات بھی فراہم کردیے گئے ہیں تاہم حتمی منظوری تاحال التوا کا شکار ہے۔ ایس ایس پی سکیورٹی ون نے اپنے مراسلے میں خبردار کیا ہے کہ یونٹ کی ذمہ داریوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان، سندھ ہائیکورٹ اور سندھ کی ماتحت عدالتوں کے معزز ججز کو سکیورٹی اور پولیس اسکواڈ فراہم کرنا شامل ہے لیکن ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث یہ خدمات مکمل طور پر معطل ہوچکی ہیں۔ مراسلے میں اعلیٰ حکام سے استدعا کی گئی ہے کہ زیر التوا سمری کو فوری ترجیحی بنیادوں پر منظور کیا جائے تاکہ معزز عدلیہ کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی اور پولیس اسکواڈ سروسز بحال ہوسکیں اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائے جاسکیں۔