غیر قانونی نجی ہسپتال اور کلینک چلانے کا انکشاف
غیر قانونی نجی ہسپتال اور کلینک چلانے کا انکشافکسی رجسٹرڈ ڈاکٹر کا نام استعمال کرتے ہوئے بورڈ آویزاں کر دیئے جاتے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا میں حکومتی پابندیوں کے باوجود محکمہ صحت کے بعض کلرکوں اور دیگر نان کوالیفائیڈ ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی نجی ہسپتال اور کلینک چلانے کا انکشاف سامنے آیا ہے ، جہاں شام کے اوقات میں ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کرنے کا سلسلہ جاری ہے ،ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں متعدد ایسے نجی کلینک اور ہسپتال قائم ہیں جنہیں محکمہ صحت سے وابستہ غیر تربیت یافتہ اور نان ٹیکنیکل عملہ چلا رہا ہے ، مبینہ طور پر ان مراکز پر کسی رجسٹرڈ ڈاکٹر کا نام استعمال کرتے ہوئے بورڈ آویزاں کر دیے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر مریضوں کا معائنہ اور علاج غیر متعلقہ افراد کرتے ہیں،اطلاعات کے مطابق ان نجی مراکز میں نہ صرف عام بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے بلکہ چھوٹے اور بڑے آپریشنز بھی معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زچہ و بچہ سے متعلق آپریشنز سمیت دیگر جراحی نوعیت کے طبی اقدامات بھی مبینہ طور پر غیر مستند افراد کی نگرانی میں انجام دیے جا رہے ہیں، جو مریضوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے مقامی اور اعلیٰ حکام کو بھی اس صورتحال کا علم ہے ، تاہم مبینہ طور پر اپنے ماتحت یا متعلقہ ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے توجہ عطائیت کے خلاف محدود کارروائیوں تک مرکوز رکھی جاتی ہے ،مزید یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بعض ملازمین مبینہ طور پر سرکاری مراکز صحت کی ادویات اور دیگر طبی سامان نجی کلینکوں میں استعمال کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق بنیادی مراکز صحت (BHU) اور رورل ہیلتھ سنٹرز (RHC) میں ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت کی ایک وجہ یہ معاملہ بھی قرار دیا جا رہا ہے ،شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم ایسے نجی کلینکوں اور ہسپتالوں کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔