کروڑوں خرچ : ٹرانسپورٹ نظام میں خامیاں بدستور برقرار
جنرل بس اسٹینڈ پر بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ایک ایک اسٹینڈ الاٹ کیا گیا تھا،متعدد مالکان نے اضافی اسٹینڈز پر بھی قبضہ جما رکھا ،اسٹینڈز کی منصفانہ تقسیم کے اصول متاثر بعض اڈوں سے مقررہ روٹس کے بجائے دیگر اضلاع کے لیے گاڑیاں روانہ کی جاتی ،بڑے ٹرانسپورٹرزچھوٹے کو حصہ وصول کرکے ا اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں جنرل بس اسٹینڈ کی تعمیر، مرمت اور تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود ٹرانسپورٹ نظام میں موجود بے ضابطگیاں اور انتظامی خامیاں بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث مسافروں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،ذرائع کے مطابق جنرل بس اسٹینڈ پر بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ایک ایک اسٹینڈ الاٹ کیا گیا تھا، تاہم متعدد کمپنی مالکان نے مبینہ طور پر اضافی اسٹینڈز اور اڈوں پر بھی قبضہ جما رکھا ہے ۔
اس صورتحال کے باعث اسٹینڈز کی منصفانہ تقسیم اور استعمال کے اصول متاثر ہو رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق بعض اڈوں سے مقررہ روٹس کے بجائے دیگر اضلاع کے لیے گاڑیاں روانہ کی جاتی ہیں، جبکہ بڑے ٹرانسپورٹرز کی جانب سے چھوٹے ٹرانسپورٹرز سے مبینہ طور پر حصہ وصول کرکے انہیں اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مطالبات پورے نہ کرنے والوں کی گاڑیوں کو آپریٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،مسافروں کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ مختلف اڈوں کے منیجرز سواریوں کے ساتھ ساتھ سامان کی بکنگ پر بھی اضافی اور غیر ضروری چارجز وصول کرتے ہیں، خاص طور پر تعطیلات، عیدین، اہم مواقع اور ویک اینڈ کے دوران من مانے کرایوں کی وصولی معمول بن چکی ہے ، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ،ذرائع کے مطابق جنرل بس اسٹینڈ کی تزئین و آرائش پر لگ بھگ دس کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جا چکی ہے ، لیکن انتظامی مسائل اور نگرانی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اڈا انتظامیہ نے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام کو صورتحال بہتر بنانے اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے سفارشات ارسال کیں، تاہم ان پر خاطر خواہ عملدرآمد نہیں کیا گیا،مسافروں اور شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ میں کرایوں، اسٹینڈز کی الاٹمنٹ، اڈہ مافیا اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور سرکاری وسائل سے کیے گئے ترقیاتی کاموں کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچ سکیں۔