پنجاب کی معیشت کے لیے اگلے پانچ سال کا نیا روڈ میپ تیار

لاہور:(دنیا نیوز) پنجاب کی معیشت کے لیے اگلے پانچ سال کا نیا روڈ میپ تیار کرلیا، دنیا نیوز نے دستاویز حاصل کرلیں ،نئی حکمت عملی سابقہ پنجاب گروتھ سٹریٹجی 2023 کی تکمیل کے بعد تیار کی گئی۔

 دستاویز کے مطابق اس کا مقصد پنجاب کے معاشی وژن کا تعین، ترقی کے اہداف مقرر کرنا اور ان کے حصول کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے،حکمت عملی کی تیاری میں صوبائی معیشت، قومی و صوبائی پالیسیوں اور ان کے معاشی اثرات کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

اِسی طرح یہ مکمل تکنیکی و تجزیاتی کام پی اینڈ ڈی بورڈ کے پنجاب ریسورس مینجمنٹ اینڈ پالیسی یونٹ نے اندرونی طور پر انجام دیا اور پنجاب کی آمدن اور اخراجات کے جامع مالی تخمینے بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا تکنیکی کام سینئر ایڈوائزر پی اینڈ ڈی بورڈ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، مختلف انتظامی محکموں سے مسلسل مشاورت اور شعبہ جاتی ترجیحات کی بنیاد پر اس حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔

یہ بات بھی دستاویز میں سامنے آئی کہ پنجاب پاکستان کی قومی جی ڈی پی میں 55.7 فیصد حصہ رکھتا ہے،پنجاب کی معیشت میں سروسز کا حصہ 60.1 فیصد، زراعت 24.3 فیصد اور صنعت 15.6 فیصد ہے، پنجاب ملک کی 82.8 فیصد بڑی فصلوں کی پیداوار میں حصہ دار ہے۔

پنجاب کی لیبر فورس 4 کروڑ 82 لاکھ، جبکہ روزگار یافتہ افراد 4 کروڑ 47 لاکھ ، بے روزگاری کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، گزشتہ 25 برس میں پنجاب کی معاشی ترقی قومی اوسط سے ہر پانچ سالہ دور میں بہتر رہی۔

دستاویز میں کہا گیا کہ پنجاب کی معاشی ترقی کی رفتار 2000 کی دہائی کے 5 فیصد سے زائد سے کم ہو کر حالیہ دور میں 4 فیصد سے نیچے آ گئی، حقیقی اجرتوں میں جمود، کم سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں کمی معاشی چیلنجز قرار دیے گئے۔

پنجاب اکنامک گروتھ سٹریٹجی میں کم آمدن، کم پیداواری اور غیر رسمی روزگار کے مواقع کو بڑا مسئلہ قرار دیا گیا، پنجاب کی 2031 میں زراعت، صنعت، سروسز، انسانی سرمایہ اور روزگار کو مرکزی توجہ دی گئی ہے،جنوبی پنجاب میں غربت، موسمیاتی دباؤ اور زرعی کمزوری پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبائی حکومتی دستاویز میں بتایا گیا کہ صنعت میں ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، فارما، ایگرو پروسیسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیا گیا اورآئی ٹی، ڈیجیٹل ایکسپورٹس، لاجسٹکس اور فنانس کو سروسز سیکٹر کی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔

حکمت عملی کے مطابق ترقیاتی اخراجات، ٹیکس، توانائی قیمتوں اور کریڈٹ پالیسی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ماڈل تیار کیا گیا، زراعت میں ایک فیصد اضافی سرمایہ کاری سے زرعی پیداوار میں 1.803 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا۔

زراعت کے ترقیاتی حصے کو 20 سے 40 فیصد کرنے سے صوبائی جی ڈی پی گروتھ میں 1.29 فیصد پوائنٹس اضافہ ممکن قرار دیا گیا۔

بجلی اور گیس ٹیرف 02-2001 سے25-2024 تک 590 فیصد بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے ، توانائی کی قیمتوں کو صنعتی مسابقت کے لیے سب سے بڑی ساختی رکاوٹ قرار دیا گیا، موجودہ پالیسیوں کے تسلسل پر 30-2025 تک معاشی ترقی 5.51 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

دوسری جانب مجوزہ پالیسی اقدامات کے تحت31-2030 تک پنجاب کی معاشی ترقی 6.53 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، پالیسی منظرنامے کے تحت31-2030 میں صوبائی جی ڈی پی بیس لائن کے مقابلے میں تقریباً 1140 ارب روپے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں