بجلی کی 3 کمپنیوں کی نجکاری: پاکستانی اور ترک سرمایہ کاروں کا جوائنٹ وینچر

استنبول: (دنیا نیوز) پاکستان میں بجلی کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لئے پاکستانی اور ترک سرمایہ کاروں نے ہاتھ ملا لئے۔

ترکیہ کے بڑے صنعتی گروپ چنگیز ہولڈنگ نے پاکستان کے پانچ معروف کاروباری گروپس کے ساتھ استنبول میں سٹریٹجک جوائنٹ وینچر قائم کرلیا، اس مشترکہ اتحاد میں فاطمہ گروپ، آرٹسٹک ملینرز، دین گروپ، فضل گروپ اور لیک سٹی شامل ہیں جن کا ہدف فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری ہے۔

استنبول میں ہونے والے معاہدے کے تحت یہ مشترکہ کاروباری اتحاد فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی خریداری کے لئے بولیوں میں حصہ لے گا، جوائنٹ وینچر کے پاکستانی کنسورشیم میں فاطمہ گروپ، آرٹسٹک ملینرز، دین گروپ، فضل گروپ اور Lake City ہولڈنگز شامل ہیں۔

جوائنٹ وینچر میں شامل پاکستانی اداروں کی مجموعی افرادی قوت ایک لاکھ سے زائد، جبکہ چنگیز ہولڈنگ میں تقریباً 45 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں، یوں ان گروپس میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار سے زیادہ ہے۔

حکومت پاکستان نے پاور ڈسٹری بیوشن سیکٹر کو پرائیوٹائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نقصانات میں کمی کے ذریعے بجلی صارفین کو اضافی بوجھ سے نجات دلائی جاسکے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کی نجکاری کے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی فیسکو، گوجرانولہ الیکٹرک سپلائی کمپنی گیپکو اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی آئیسکو کو نجکاری کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

یہ تینوں کمپنیاں فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، وزیرآباد، اسلام آباد، راولپنڈی سمیت اہم صنعتی و رہائشی علاقوں میں پاور ڈسٹری بیوشن کی ذمہ دار ہیں۔

فیسکو تقریباً 57 لاکھ، گیپکو 51 لاکھ اور آئیسکو 41 لاکھ صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے، مجموعی طور پر یہ کمپنیاں ڈیڑھ کروڑ کے قریب صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔

تینوں کمپنیوں کا بڑا مسئلہ ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کے دوران ہونے والا نقصان ہے جس کی وجہ سے منافع کم ہوجاتا ہے اور کبھی خسارے میں بڑھ جاتا ہے۔

نیپرا نے سال 2024ء اور 2025ء میں ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن لاسز کی مد میں فیسکو کے لئے 8 اعشاریہ 38 فیصد، گیپکو کے لئے 8 اعشاریہ 90 فیصد اور آئیسکو کے لیے 7 اعشاریہ 31 فیصد کا ٹارگٹ رکھا تھا، لیکن فیسکو کو9 اعشاریہ 02 فیصد، گیپکو کو 10 اعشاریہ 60 فیصد اور آئیسکو کو 8 اعشاریہ 61 فیصد ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز کا سامنا رہا۔

تینوں کمپنیاں بجلی کے نقصانات کم کرنے کے مقررہ اہداف حاصل نہ کرسکِیں، فیسکو کے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز 2 ارب 97 کروڑ روپے، گیپکو کے 5 ارب 50 کروڑ روپے اور آئیسکو کے 4 ارب 78 کروڑ روپے رہے۔

پاور کنزیومرز کا ایک اور بڑا مسئلہ ٹیکنیکل خرابی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے بجلی بند ہونا ہے، نیپرا کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران فیسکو میں بجلی بندش کے اوسطاً واقعات 33 اعشاریہ 31، گیپکو میں 49 اعشاریہ 49 اور آئیسکو میں 15 اعشاریہ 39 رہے۔

نیپرا کے مقررہ معیار کے مطابق یہ تعداد 13 سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے، یوں ان کمپنیوں کا نیٹ ورک جدید بنانا اور خرابیاں دور کرنا نہایت ضروری ہے۔

پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لئے قائم ہونے والے پاکستانی ترک جوائنٹ وینچر میں ایسے بڑے کاروباری گروپس شامل ہیں جن کا تجربہ ٹیکسٹائل، کھاد، توانائی، تعمیرات، معدنیات، ہاؤسنگ، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکیہ کا چنگیز ہولڈنگ گروپ پاور جنریشن و ڈسٹری بیوشن، کنسٹرکشن، معدنیات اور دھاتوں کی تیاری کے شعبوں میں سرگرم ہے، گروپ کی پاور جنریشن صلاحیت 5 ہزار 622 میگاواٹ ہے جس میں سے 3 ہزار 171 میگاواٹ قابلِ تجدید ری نیوایبل انرجی کے منصوبوں پر مشتمل ہے۔

چنگیز انرجی سے منسلک تین بجلی تقسیم کار کمپنیاں ترکیہ میں 90 لاکھ سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں جبکہ قدرتی گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک سے مزید 3 لاکھ 30 ہزار صارفین منسلک ہیں۔

مختلف شعبوں میں گروپ کے 28 پروڈکشن یونٹس ہیں اور 45 ہزار ملازمین ہیں، یہ گروپ ہر سال کیتھوڈ کاپر اور ایلومینیم جیسی اہم صنعتی دھاتیں بھی تیار کرتا ہے، یہ دونوں دھاتیں بجلی کے نیٹ ورکس، صنعتی مشینری، پاور آلات اور انفراسٹرکچر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ چنگیز ہولڈنگ ایئرپورٹس، ہائی ویز، ریلوے، ڈیمز، کَان کنی، ٹورازم، ایوی ایشن اور انشورنس بزنس میں بھی سرگرم ہے، گروپ استنبول ایئرپورٹ کے سرمایہ کاروں اور آپریٹرز میں بھی شامل ہے۔

کنسورشیم میں شامل فاطمہ گروپ پاکستان میں فرٹیلائزر، چینی، ٹیکسٹائل، معدنیات، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ، پیکیجنگ، زراعت، تجارت، آئی ٹی، بینکنگ، Fintech، رئیل اسٹیٹ، کاسمیٹکس، صحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرگرم ہے۔

یہ ملکی زراعت میں استعمال ہونے والے اہم ترین عنصر یعنی کھاد بنانے والے بڑے گروپس میں سے بھی ایک ہے، فاطمہ گروپ کے پاس 120 میگاواٹ کی پاور جنریشن اور 37 کلومیٹر کی پاور ڈسٹری بیوشن لائن بچھانے اور چلانے کا تجربہ بھی موجود ہے۔

کنسورشیم میں شامل آرٹسٹک ملینرز پاکستان کی بڑی ڈینم اور ٹیکسٹائل کمپنیوں میں شامل ہے، بجلی کے شعبے میں بھی آرٹسٹک ملینرز کی سرمایہ کاری موجود ہے۔

کمپنی کے ونڈ پاور منصوبوں کی مجموعی آپریشنل صلاحیت 100 میگاواٹ ہے اس کے صنعتی یونٹس میں 12 میگاواٹ سے زائد سولر پاور استعمال کی جاتی ہے۔

کنسورشیم کا رکن دین گروپ ٹیکسٹائل، انرجی، کنسٹرکشن، leather، فارمنگ، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور انویسٹمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہے، توانائی کے شعبے میں دین انرجی سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں 50 میگاواٹ کا ونڈ پاور پراجیکٹ چلاتی ہے۔

فضل گروپ پاکستان کے پرانے اور نمایاں ٹیکسٹائل گروپس میں سے ایک ہے، گروپ کے دیگر کاروباروں میں کاٹن جننگ، آئل ایکسٹریکشن، زراعت اور انویسٹمنٹ شامل ہیں، فضل کلاتھ ملز اپنے تمام پیداواری یونٹس میں گیس سے چلنے والے پاور جنریشن سسٹمز اور سولر پاور استعمال کرتی ہے۔

کنسورشیم میں شامل Lake City ہولڈنگز رہائشی یونٹس، ولاز، اپارٹمنٹس، کمرشل پراپرٹیز، شاپنگ، تفریحی سہولتوں اور میگا انفراسٹرکچر کی ترقی اور انتظام میں تجربہ رکھتا ہے، بڑے رہائشی اور تجارتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور انتظام کا یہ تجربہ گھریلو اور کمرشل بجلی صارفین کی ضروریات سمجھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

اس جوائنٹ وینچر کا مینجمنٹ کنٹرول ان ڈسکوز میں بہتر مالی نظم و ضبط، بہتر ایڈمنسٹریشن اور چیک اینڈ بیلنس قائم کرسکتا ہے، بین الاقوامی آپریٹرز جدید میٹرنگ، ڈیجیٹل بلنگ، نیٹ ورک مانیٹرنگ، بجلی کی بندش کے انتظام اور انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال میں مہارت فراہم کر سکتے ہیں۔

ان اقدامات سے بلنگ کی درستگی، غیر ضروری نقصانات کم کرنے اور پاور کنزیومرز کو بہترین سروس میسر آئے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...