اسلام آباد میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پراسیسنگ کیس میں اہم پیش رفت
اسلام آباد: (دنیا نیوز) انسانی اعضا کی غیر قانونی پراسیسنگ کے مبینہ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارروائی کے دوران برآمد کیے گئے نمونوں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ پمز ہسپتال نے بھی ابتدائی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برآمد شدہ مواد انسانی اعضاء اور انسانی پلیسینٹا پر مشتمل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان مختلف ہسپتالوں سے ہیومن پلیسینٹا خرید کر اسے مخصوص طریقہ کار کے تحت پراسیس کرتے تھے، پراسیسنگ کے بعد پلیسینٹا کو خشک کر کے بیرون ملک سمگل اور ایکسپورٹ کیا جاتا تھا۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں تازہ اور خشک کیا گیا انسانی پلیسینٹا برآمد کیا گیا، جبکہ یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔