انسانی سمگلنگ اور ڈنکی مافیا کا ایک نیا اور خطرناک روٹ بے نقاب

اسلام آباد: (عادل تنولی) اسلام آباد سے انسانی اسمگلنگ اور ڈنکی مافیا کے ایک نئے اور خطرناک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت خوبصورت سیاحتی ملک آذربائیجان غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کے خواہش مند پاکستانیوں کے لیے نیا ٹرانزٹ روٹ بن چکا ہے۔

وزارت داخلہ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 1 لاکھ 6 ہزار 634 پاکستانی آذربائیجان گئے، تاہم ان میں سے 7 ہزار 721 افراد کی وطن واپسی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

دستاویزات کے مطابق واپس نہ آنے والوں میں 5 ہزار 447 افراد وزٹ اور ٹورسٹ ویزا پر آذربائیجان گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے سیاحتی ویزوں کا زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 2 ہزار 676 اور 2025 میں 2 ہزار 495 پاکستانی آذربائیجان جانے کے بعد واپس نہیں آئے، جبکہ 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ہی 2 ہزار 550 افراد غائب ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال عدم واپسی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ کر 17.96 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس وقت آذربائیجان جانے والا تقریباً ہر چھٹا پاکستانی مسافر واپس نہیں آ رہا، جس سے انسانی اسمگلنگ اور ڈنکی مافیا کی سرگرمیوں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں