والدہ کے انتقال کے بعد ڈرامہ سیٹ پر ناخوشگوار تجربہ، علی طاہر کا انکشاف

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی طاہر نے اپنی والدہ کے انتقال کے فوراً بعد ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والے ایک ناخوشگوار تجربے سے پردہ اٹھا دیا۔

حال ہی میں علی طاہر نے کامیڈین اور میزبان احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے شوبز انڈسٹری اور ڈرامہ سیٹس پر پیش آنےوالے مسائل پر کھل کر گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ وہ سینئر فنکار، ماہرِ تعلیم اور مصنف نعیم طاہر اور معروف ریڈیو شخصیت یاسمین طاہر کے صاحبزادے ہیں، اداکارہ وجیہہ طاہر کے شریکِ حیات اور ایک بیٹی کے والد بھی ہیں۔

علی طاہر نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ڈرامہ سیٹس پر بدانتظامی کے باعث فنکاروں کو اکثر تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ عموماً معمولی باتوں پر سیٹ چھوڑنے کے قائل نہیں کیونکہ پروڈیوسرز اپنی محنت اور سرمایہ لگاتے ہیں، اس لیے فنکار کو غیر ضروری نخرے نہیں دکھانے چاہئیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران انہیں شدید ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑی، وہ ایک سین کی شوٹنگ کے لیے تقریباً 7 گھنٹے تک انتظار کرتے رہے جبکہ انہیں داڑھی لگائی گئی تھی جس میں مٹی یا دیگر مواد شامل تھا، طویل انتظار نے انہیں شدید غصے اور دکھ میں مبتلا کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کار سے صرف اتنا کہا کہ آپ کی پلاننگ بہت خراب ہے، بعض فنکار ایسے حالات میں پوری ٹیم پر سخت تنقید کرتے ہیں مگر وہ عموماً پُرسکون رہنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ واقعہ ان کی والدہ کے انتقال کے فوراً بعد پیش آیا تھا جس کے باعث وہ شدید صدمے میں تھے اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، ورنہ وہ ہمیشہ تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں