پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی مقابلوں کے الزامات رد کر دیئے، رپورٹ جمع

لاہور: (محمد اشفاق) پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی پولیس مقابلوں کے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد قرار دے دیئے۔ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد ڈکیتی ،چوری، قتل، راہزنی کی وارداتوں میں واضح کمی آئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سی سی ڈی کے جعلی پولیس مقابلوں سے متعلق درخواست پر تحریری رپورٹ جمع کروا دی گئی، رپورٹ کی کاپی دنیا نیوز نے حاصل کر لی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد ڈکیتی، چوری، قتل سمیت دیگر جرائم میں واضح کمی آئی، 7 ماہ میں سی سی ڈی کی کارروائیوں سے پراپرٹی سے متعلق جرائم میں 64 فیصد سے زائد کمی ہوئی، ڈکیتی و قتل کے واقعات میں بھی 60 فیصد کمی دیکھی گئی، سال 2024 میں ڈکیتی کے 792 جبکہ 2025 میں 324 واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈکیتی کے کیسز کی شرح میں 69 فیصد کمی آئی، راہزنی کے واقعات 41 ہزار سے کم ہو کر 18 ہزار 608 تک آگئے اور 62 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 64 فیصد، کار چوری کے واقعات میں 60 فیصد کمی ہوئی۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل چھیننے کے 9 ہزار 754 واقعات سے کم ہو کر 4 ہزار 628، 53 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، ڈکیتی بمعہ قتل کے کیسز 170 سے کم ہو کر 96 ہوئے، جن میں 60 فیصد کمی دیکھی گئی، سی سی ڈی آپریشنز میں ایک سب انسپکٹر شہید، 96 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سی سی ڈی نے کیٹیگری اے کے مفرور اور ہیڈ منی ملزمان کو گرفتار کیا، متعدد گینگز کو بے نقاب کیا گرفتاریاں کیں، گینگز کے سراغ لگائے۔

تحریری رپورٹ میں کہا گیا کہ سی سی ڈی پر الزامات سوشل میڈیا افواہوں پر مبنی ہیں، انکا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، سی سی ڈی تمام جرائم پیشہ عناصر کےخلاف بلاتفریق کارروائیاں کرتی ہے، قانون کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا پابند ہے، ملزمان کی گرفتاری، شفاف تفتیش اور قانونی تقاضوں کے مطابق پراسیکیوشن یقینی بنائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس میں مضبوط احتسابی اور ڈسپلنری نظام موجود ہے، کسی بھی افسر کی جانب سے خلاف ورزی پر مکمل انکوائری کے بعد سخت قانونی و محکمانہ کارروائی ہوتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں