ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا: مریم نواز
لاہور:(دنیا نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا۔
صوبائی دارالحکومت میں مریم نواز کا ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں شفافیت بہت ضروری ہے، دس ہزار 300 بچوں کے دل کا آپریشن کرنے سے انہیں نئی زندگی ملی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کےاستعمال سےصحت میں انقلاب لایا جاسکتا ہے، بچوں کی پیچیدہ ہارٹ سرجریز کے لیے ماہر سرجنز کی خدمات حاصل کی ہیں، ماضی میں ادویات موجود ہونے کے باوجود مریضوں کو نہیں دی جاتی تھیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں ہر طرح کی ادویات موجود ہیں، غریب کا پیسہ کرپشن کی مد میں کسی کو نہیں کھانے دوں گی، کوشش ہو گی کہ علاج کے لیے کسی کو بھی دوسرے شہر نہ جانا پڑے، سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریض امیر نہیں ہوتے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں شعبہ صحت کے لیے 630 ارب روپے کا بجٹ رکھا ہے، صحت کے شعبے میں اونچ نیچ ہو جائے تو لوگوں کی زندگیاں بھی جا سکتی ہیں، شعبہ کی ترقی کے لیے بھرپور کام کیا جا رہا ہے، پنجاب کے عوام سہولیات سے بھرپور مستفید ہو رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بنیادی مرکز صحت میں بھی جدید سہولیات دی جا رہی ہیں، شکایات آتی ہیں سی ٹی سکین، ایم آر آئی کی مشین خراب ہے، اگر کوئی چیز خراب ہے تو اِسے ٹھیک کرایا جائے تاکہ مریضوں کو دربدر نہ ہونا پڑے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں ڈاکٹرز کے ڈیوٹی پر نہ ہونے کی شکایات آتی ہیں، ڈیوٹی اوقات میں اگر ڈاکٹر موبائل استعمال نہیں کریں گے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی، شکایات کی وجہ سے یہ سخت فیصلہ کرنا پڑے، ساری ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے جناح ہسپتال گئی تومریضوں نے کہا ادویات نہیں مل رہی، ہسپتال میں سٹاک ہونے کے باوجود مریضوں سے باہر سے ادویات منگوائی جا رہی تھی، سٹاک روم میں جا کر دیکھا تو پورا کمرہ ادویات سے بھرا تھا، سرکاری ہسپتالوں کے خود دورے کر رہی ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ مریضوں کے بیڈ کے ساتھ پڑے ڈسٹ بین کوصاف رکھیں، ڈسٹ بین گندے ہونے کی وجہ سے وارڈ میں کاکروچ آ جاتے ہیں، ہسپتالوں کے واش روم کو صاف رکھا جائے، تمام ایم ایس ہسپتالوں میں فائرسیفٹی سسٹم کو بھی یقینی بنائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں شارٹ سرکٹ کے ذریعے آگ لگتی ہے، ایک بیڈ میں دو، تین، تین مریض کے بجائے ایک مریض ہونا چاہیے، 1500نئے ڈاکٹرز اور 5 سے 6 ہزار نرسز بھرتی کی گئی ہیں، ڈاکٹرز،انسانی زندگیاں بچانے کو اپنا مشن بنائیں۔