حکومت کا ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں 55،55روپے فی لٹر اضافےکا اعلان

اسلام آباد :(دنیا نیوز) حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں 55،55روپے فی لٹر اضافےکا اعلان کر دیا۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب،وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویزملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایران پر حملے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافہ ہوا ہے، رواں ہفتے امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 35 فیصداور برینٹ تقریباً 28 فیصد مہنگا ہوا۔

نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی بنائی گئی ہے جو مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اورقیمتوں کا جائزہ لے رہی ہے، وزیراعظم نے میری سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے جو قیمتوں کا جائزہ لےرہی ہے۔

اسحاق ڈارنے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام اور معیشت کے مختلف شعبوں میں منفی اثرات پڑیں گے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ تمام مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ خطےمیں کشیدگی کو کم سے کم کیا جا سکے، پاکستان کی کوشش ہے کہ دوست ممالک کو ساتھ ملا کر کشیدگی کو کم کیا جائے، کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہر روز پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہو رہا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر کمیٹی قائم کی گئی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر خطیر اضافہ ہو رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ توانائی اور پاکستان کی معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم میکرو اسٹیبلٹی کے حوالے سے اچھی پوزیشن پر ہیں، ڈیمانڈ مینجمنٹ اور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے وزیر پٹرولیم نے بہت کوششیں کی ہیں۔

محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اگلے دو دنوں میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز سے ملاقات کریں گے۔
وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک
وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا مشکور ہوں، اس مشکل مرحلے میں انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کی رہنمائی کی، اس پر اُن کا مشکور ہوں، آج ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو آگ ہمسایہ ملک سے شروع ہوئی تھی آج اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اس صورتحال کے دوران ہم نے چند ہفتوں میں اپنے ذخائر کو مناسب حد تک بڑھا دیا تھا، موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں۔

وزیرِ پٹرولیم نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں اس نظام کو ذمہ داری سے چلانے کی کوشش کرنی چاہیے، اِس مقصد میں قیمت کا بنیادی کردار ہے، ہمارے پاس وافر ذخائر موجود تھے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پٹرولیم کی قلت پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے ، چیف سیکرٹریز صاحبان کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں قانون کو حرکت میں لائیں، ہمارے دو جہاز یمبو پورٹ اور فجیرہ پورٹ کی طرف رواں دواں ہیں، پاکستان کی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہ آرامکو نے بھی یمبو پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں بے پناہ بڑھاوا سامنے آ رہا ہے۔

وزیرِ پٹرولیم نے کہا کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل تھی، ڈیزل کی قیمت یکم مارچ کو 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، مجبوراً ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے، ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

خیال رہے حکومت کی جانب سے 55 روپے فی لٹر اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لٹر ہوگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں