سرکاری ملازم مرضی کے مقام پر ڈیوٹی کا مطالبہ نہیں کر سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا ہے کہ سرکاری ملازم اپنی مرضی کے مقام پر فرائض ادا کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے بلڈنگ انسپکٹر عمران ارشاد کے تبادلے کے خلاف چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، دوران سماعت درخواست گزار بلڈنگ انسپکٹر نے محض آٹھ دنوں کے اندر تبادلے کےخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا کہ بغیر کسی ٹھوس وجہ اور نوٹس کے اتنی جلدی تبادلہ کرنا انتظامی بدنیتی ہے لہٰذا تبادلے کا نوٹفکیشن کلعدم قرار دیا جائے۔

دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے درخواست گزار کے موقف کی مخالفت کی، جسٹس راحیل کامران شیخ نے تمام دلائل مکمل ہونے پر 4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں لکھا کہ سرکاری ملازم اپنی مرضی کے مقام پر فرائض ادا کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے، عدالت نے فیصلے میں کہاکہ ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، صرف 8 دن میں تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں جب تک انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ پرانے عدالتی فیصلے نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آ سکتے، محکمہ بلدیات کے ملازمین اب مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا قانونی حق نہیں رکھتے، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد پرانا قانون ختم ہو چکا ہے۔

یہ بھی قرار دیا گیا کہ نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سکیورٹی آف ٹینور کا کوئی تحفظ موجود نہیں، بعدازاں عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف درخواست خارج کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں