امریکا اور ایران کے درمیان آج جنیوا میں دوبارہ جوہری مذاکرات ہوں گے
جنیوا: (دنیا نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور ہو رہا ہے جس کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازع کو حل کرنا اور بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کے بعد ایران پر نئے ممکنہ امریکی حملوں کو روکنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ اپنے اعلیٰ سفارت کاروں کے ساتھ امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ چکا ہے جب کہ ایران کے صدر نے نئے تنازع سے بچنے کے لیے بات چیت کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے امکان پر پرامید لہجہ اختیار کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سازگار نقطہ نظر رکھتے ہیں، مذاکرات بالآخر اس نہ جنگ نہ امن والی صورت حال سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے اسے تاریخی موقع قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو خبردار کیا کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت کرنی چاہیے، یہ انتباہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران ایسے راکٹوں پر کام کر رہا ہے جو امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی بات چیت سے قبل روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ میں کہوں گا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات نہ کرنے پر ایران کا اصرار ایک بہت، بہت بڑا مسئلہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران کے ایٹمی پروگرام پر دہائیوں پر محیط تعطل ختم کرنے کی امید کے ساتھ دونوں ممالک نے اس ماہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں، جس کے بارے میں واشنگٹن، دیگر مغربی ریاستوں اور اسرائیل کا خیال ہے کہ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے۔ تہران اس کی تردید کرتا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کریں گے، یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد ہو رہے ہیں اور ان کی ثالثی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں ایران پر ممکنہ حملے کے لیے مختصراً اپنا موقف پیش کیا، اور کہا کہ ان کی ترجیح اس مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہے، لیکن وہ تہران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے موقف پر زور دیا اور کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اگر ٹرمپ نے یہ راستہ چنا تو یہ حتمی فوجی ہدف ہوگا۔
امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی فوجی طاقت جمع کر رہا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، گزشتہ سال جون میں امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا، ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے ملک کا مقصد ایک منصفانہ اور فوری معاہدہ کرنا ہے، لیکن انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، واشنگٹن ایران کے اندر ایٹمی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔
عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ معاہدہ پہنچ میں ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی بھی مذاکرات کے دوران جنیوا میں موجودگی متوقع ہے تاکہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔