خارگ پر حملہ، متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹھکانے اب جائز اہداف ہیں: پاسداران انقلاب

تہران: (دنیا نیوز) امریکا کے ایران کے خارگ جزیرے پر حملے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ وہاں موجود امریکی ٹھکانے اب جائز اہداف ہیں۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خارگ جزیرے پر حملے کے بعد امارات میں موجود امریکی ٹھکانے اب جائز فوجی اہداف تصور کیے جائیں گے۔

پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے قومی اقتدارِ اعلیٰ اور سرزمین کے دفاع کے لیے یہ جائز حق رکھتے ہیں کہ امریکی دشمن کے میزائل چلائے جانے کے مقامات کو نشانہ بنائے، جن میں بحری جہاز رانی کی بندرگاہیں، ڈاکس اور متحدہ عرب امارات کے بعض شہروں میں قائم امریکی فوجیوں کے ٹھکانے شامل ہیں۔

ایرانی فوج کے بیان میں امارات کے رہائشیوں اور آبادیوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے بندرگاہوں، ڈاکس اور امریکی فوجی تنصیبات کے قریب علاقوں کو خالی کر دیں۔

 خیال رہے کہ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کی ایرانی تیل کی شہ رگ خارگ جزیرے پر بمباری کے باوجود تیل تنصیبات محفوظ ہیں۔ 

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آج امریکی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے اور فوجی اہداف پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے۔

ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے تاج زیور، خارگ جزیرہ میں ہر فوجی ہدف کو مکمل طورپر مٹا دیا گیا ہے، ہمارے ہتھیار سب سے زیادہ طاقتور اور نفیس ہیں۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعویٰ مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ تیل تنصیبات محفوظ ہیں مگر امریکی اڈوں کو اب زیادہ شدت سے نشانہ بنایا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں