ماہرین کا اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک قرار

نیویارک: (ویب ڈیسک) عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صارفین کو اے آئی چیٹ بوٹس پر خاص طور پر طبی، قانونی اور مالی نوعیت کے حساس معاملات میں مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

امریکا میں قانونی ماہرین اپنے مؤکلین کو واضح ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ وہ اے آئی چیٹ بوٹس کو قابلِ اعتماد رازدار نہ سمجھیں، کیونکہ ایسے معاملات جہاں قانونی ذمہ داری یا آزادی داؤ پر ہو، وہاں یہ مشورہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ایک دیوالیہ مالیاتی کمپنی کے سابق سی ای او کے کیس میں قرار دیا کہ وہ اپنی اے آئی چیٹ گفتگو کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھ سکتا، مذکورہ شخص پر سکیورٹیز فراڈ کے الزامات ہیں۔

فیصلے کے بعد وکلا نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی فوجداری یا دیوانی مقدمات میں بطور ثبوت طلب کی جا سکتی ہے، جس سے صارفین کی رازداری متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روایتی طور پر وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی گفتگو قانونی طور پر خفیہ تصور کی جاتی ہے، تاہم اے آئی چیٹ بوٹس اس تحفظ کے زمرے میں نہیں آتے۔

اسی تناظر میں کئی بڑی امریکی لا فرمز نے اپنے مؤکلین کو ہدایت دی ہے کہ وہ حساس اور ذاتی نوعیت کی معلومات چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں