سائنسدان خلائی مشن کے دوران بولنے کی صلاحیت سے عارضی محروم، ماہرین حیران
نیویارک :(دنیا نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کو اس وقت ایک غیر معمولی طبی معمہ درپیش ہے جب ایک تجربہ کار خلا باز نے خلا میں اچانک بولنے کی صلاحیت عارضی طور پر کھو دی، جس کی وجہ ماہرین اب تک معلوم نہیں کرسکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 4 مرتبہ خلا کا سفر کرنے والے خلا باز مائیک فنکے کو 7 جنوری کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر اچانک طبی مسئلہ پیش آیا۔ وہ رات کے کھانے کے بعد اگلے روز طے شدہ سپیس واک کی تیاری کررہے تھے کہ اچانک بغیر کسی درد یا واضح علامت کے بولنے سے قاصر ہوگئے۔
خلا باز کے مطابق یہ کیفیت بجلی کی تیز چمک کی طرح اچانک نمودار ہوئی اور تقریباً 20 منٹ تک برقرار رہی، جس کے بعد وہ مکمل طور پر معمول پر آگئے، انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے یا بعد میں انہیں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا۔
فنکے کا کہنا تھا کہ ساتھی خلا باز فوراً صورتحال سمجھ گئے اور چند ہی لمحوں میں ہنگامی طبی اقدامات شروع کردیے گئے، طبی ماہرین نے بتایا کہ یہ واقعہ دل کے دورے یا سانس رکنے کا نتیجہ نہیں لگتا کیونکہ اس وقت خلا باز کو گھٹن یا درد کی کوئی شکایت نہیں تھی۔
ماہرین اس پراسرار کیفیت کو خلا میں طویل عرصہ تک بے وزنی کی حالت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ فنکے اپنے حالیہ مشن کے دوران تقریباً ساڑھے 5 ماہ سے خلائی سٹیشن پر موجود تھے اور مجموعی طور پر 549 دن خلا میں گزار چکے ہیں۔
اس طبی ہنگامی صورتحال کے باعث طے شدہ سپیس واک منسوخ کردی گئی، جو ان کی دسویں سپیس واک ہوتی جب کہ اُن کی ساتھی خلا باز کے لیے یہ پہلا تجربہ ہونا تھا۔