مشرق وسطیٰ میں جنگ سے مشکلات، سیاسی قوتیں اختلافات بھلا کر کام کریں: بلاول بھٹو

گڑھی خدابخش:(دنیا نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے مشکلات ہیں، سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خطےمیں جنگ کی صورتحال ہے، ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ہوئی، ایران کےخلاف غیرقانونی جنگ شروع کی گئی جس کی مذمت کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے مشکلات، سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا، جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، عوام وفاقی اور سندھ حکومت کی مشکلات سے آگاہ ہیں، ہماری کوشش ہے کہ وسائل کے اندر رہتے ہوئے عام آدمی کو ریلیف دیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے قومی سطح کی مشاورت میں یہ تجویز دی ہے کہ وفاقی حکومت مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کو ریلیف فراہم کرے اور غریب طبقے کو براہ راست سبسڈی دی جائے،مہنگائی کا بوجھ عام آدمی برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے متبادل ذرائع سے ریلیف پہنچایا جائے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کےپاس بے نظیرانکم سپورٹ کا بہت بڑا ادارہ ہے، جس کےذریعےغریب کی مدد کی جارہی ہے، مشکل حالات میں پروگرام عوام کوریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ سے شروع ہونے والی مہنگائی کی لہر نے عوام کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، اس لیے مشکل معاشی حالات میں عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کے اخراجات اٹھائے جائیں، سندھ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کسانوں اور موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ شہید بھٹو کے دیے گئے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے آج کوئی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں، لیکن پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قوم کو متحد کیا اور ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا، لیبیا اور فلسطین جیسی جارحیت پاکستان پر نہ ہونے کی وجہ ہمارا ایٹمی پروگرام ہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی مستقبل میں بھی ملک کی ترقی اور دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ قائدِ عوام نے ایٹمی بنیاد رکھ کر ملک کو عالمی طاقتوں کے شر سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی تحفہ دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے عظیم ترین لیڈر تھے، لاہور میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاد شہید بھٹو کی عالمی سفارتی بصیرت کا مظہر تھا۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج مسلم ممالک کے مابین اتحاد کے لیے عالمی سطح پر ذوالفقار بھٹو جیسی قیادت ناگزیر ہے،پاکستانی حکومت سمیت ان تمام قوتوں کے لیے دعاگو ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں کررہی ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی کی تشکیل اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد ناگزیر ہے، صدر مملکت اعلیٰ سطح کی مشاورت میں تمام صوبوں کے نمائندوں کی شرکت یقینی بنانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اجلاس میں شرکت اور مثبت سیاسی رویہ خوش آئند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا مقابلہ تمام اکائیوں کے اشتراک سے ہی ممکن ہے، قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں