آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھ لیا
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اُس حصے کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا، اور اسے ایک حیرت انگیز اور مختلف تجربہ قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خلا بازوں نے اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ چاند کا یہ رخ ان کے لیے بالکل نیا تھا۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق چاند کے سیاہ حصے اپنی معمول کی جگہ پر نہیں لگ رہے تھے اور یہ منظر زمین سے دکھائی دینے والے چاند سے مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ حصہ ہے جسے انسانوں نے براہِ راست کبھی نہیں دیکھا۔
— Brian Roemmele (@BrianRoemmele) April 5, 2026
رٹیمس II مشن کے 4 رکنی عملے میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔ یہ مشن 10 دن پر مشتمل ہے اور خلا باز اب چاند کے سفر کے نصف سے زیادہ مرحلہ طے کر چکے ہیں۔
خلا بازوں کے مطابق خلا میں زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ ہے، جس نے انہیں حیرت اور عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں انسانی معمولات بھی جاری رہتے ہیں، جیسے آرام کرنا اور روزمرہ کے کام انجام دینا، جو اس سفر کو مزید منفرد بناتا ہے۔
— IICON (@Lambertwisdom2) April 3, 2026
مشن کے دوران خلا بازوں کو چند تکنیکی مسائل کا بھی سامنا رہا، جن میں ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ کی خرابی شامل تھی، تاہم مجموعی طور پر سفر کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران لی جانے والی تصاویر اور مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا باز جلد چاند کے قریب ترین مقام سے گزریں گے اور اس کے بعد زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کریں گے۔