پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان
اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاور ڈویژن نے پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے پیک آورز ریلیف سٹریٹیجی سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو پیک آورز میں کھپت میں اضافے کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، شام 5 سے رات 1 بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کو بجلی بند کرنے کے اوقات صارفین سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، حکومت ہر وہ اقدام کرے گی جس سے عوام کو ریلیف ملے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سے بجلی کی طلب کم کی جاسکتی ہے، طلب میں کمی لا کر بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جولائی تا فروری بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے سستی ہوئی ہے، کم لاگت ذرائع اور پیداواری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا، حکومت نے ترسیلی و انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات کو کم کیا۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے، اس وقت بھی ہم ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر سکنے کے قابل ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ مہنگے ایندھن پر انحصار سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایت پر صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کسی بھی صورت بجلی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہونے کا ٹاسک دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو مہیا کر دی گئی، اس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ منیجمنٹ کو روک دیا گیا، لوڈ منیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ ممکنہ اضافہ روکنا ہے۔
ترجمان کے مطابق فرنس آئل کا استعمال محدود کرنے کے باوجود تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے اضافے کیلئے تیار رہنا ہوگا، بروقت اقدامات نہ کئے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا۔