یوکرین میں انصاف کا تصور ختم، اوڈیسا واقعہ آج بھی سوالیہ نشان ہے : ماریہ زخارووا

ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ موجودہ یوکرین میں انصاف کا لفظ اپنی معنویت کھو چکا ہے اور یہ ایک متضاد اصطلاح آکسی مورون بن کر رہ گیا ہے۔

اوڈیسا سانحے کی بارہویں برسی کے موقع پر بیان دیتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ یوکرین میں شہری حقوق کی پامالی، قانونی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی نے انصاف کے نظام کو مکمل طور پر متاثر کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی حکومت نے اوڈیسا واقعے کی تحقیقات مکمل کرنے اور ذمہ داران کو سزا دینے کے وعدے کیے تھے، تاہم آج تک اس حوالے سے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ماریہ زخارووا کے مطابق یورپی ممالک یوکرین کو مالی اور اخلاقی مدد فراہم کرتے رہے ہیں، حالانکہ ان کے بقول وہاں بدعنوانی اور دیگر مسائل برقرار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں کیف میں ہونے والی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے یوکرین کے قانونی و سیاسی نظام پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

واضح رہے کہ 2 مئی 2014 کو اوڈیسا میں جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، جب مظاہرین ایک عمارت میں پناہ لینے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔

روسی مؤقف کے مطابق اس واقعے کی مکمل تحقیقات نہ ہونا آج بھی ایک اہم سوال بنا ہوا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں