سندھ ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دیدیا

کراچی: (دنیا نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس محمد حسن اکبر نے مالی تنازع کے کیس میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کسی قانون میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی گنجائش موجود نہیں، سپریم کورٹ واضح کر چکی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی شق نہیں، ضابطہ فوجداری قانون کے تحت بھی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔

عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000ء کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، شناختی کارڈ بلاک ہونے سے شہری کی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے سے تعلیم، صحت، روزگار اور بینکنگ سہولتیں متاثر ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ درخواست گزار محمد راشد نے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سینئر سول جج جنوبی کا حکم چیلنج کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں