ابھی تک بھارت اپنے زخم سہلا رہا، زندہ قومیں محسنوں کو بھولتی نہیں: خواجہ آصف
سیالکوٹ :(دنیا نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ابھی تک بھارت اپنے زخم سہلا رہا ہے، زندہ قومیں اپنے محسنوں کو بھولتی نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سال قبل جس طرح بھارت کو شکست ہوئی اُس کا تکبر پاک افواج نے مٹی میں ملا دیا، ایک بڑی طاقت اور پانچ گنا بڑی افواج کو غرور ملیا میٹ ہوگیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک بھارت اپنے زخم سہلا رہا ہے، میرا نہیں خیال کہ بھارت موجودہ حالات میں چوبارہ پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت کرے، ہم ایک اچھے ہمسائے کی طرح خطے میں امن چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ابھی بھی بھارت افغانستان کے ذریعے پراکسی وار کررہا ہے، افغانستان بھارت کی پراکسی بنا ہوا ہے، طالبان چاہے وہ پاکستانی ہیں یا افغانی انکو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے، طالبان نے پاکستانی افواج کو انگیج کیا ہوا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اور یہ ہماری بھارت کیساتھ لا متناہی انگیجمنٹ ہے ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ، لیکن اللہ کا بڑا کرم ہے میں اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی وجہ سے پچیس کروڑ عوام چین کی نیند سوتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اور ہمارے جوان نا صرف جاگتے ہیں بلکہ اپنے خون سے اپنی زمین کو سیراب کرتے ہیں، ساری قوم اپنے جوانوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں زندہ قومیں اپنے محسنوں کو بھولتی نہیں۔
وزیردفاع نے کہا کہ ایک سال گزرا ہے ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا، لیکن ہمارے اندر بھی جو خلفشار ہے اور جو چیزیں ہیں درستگی مانگتی ہیں ٹھیک کرنی پڑے گی، افواج نے قربانیوں کی مثال قائم کی ہے، یہ قربانیاں باقی قوم کو بھی دینا پڑیں گی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صبح شام ہم اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے رہتے ہیں، بعض اوقات ہم اپنے ذاتی مفادات کیلئے قومی مفادات کو قربان کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہدا جس طرح قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، سرحدوں اور برف پوش پہاڑوں پہ کھڑے ہوکر ہماری حفاظت کرتے ہیں، اِس وقت میرے نزدیک ساری قوم کو اِس کی تقلید کرنی چاہیے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گریبانوں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم اس بات کی تقلید کررہے ہیں، میرے نزدیک اتنا عہد مظبوط نہیں، تمام تر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو یاد رکھنا چاہیے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ذاتی مفادات کو پیچھے رکھ کر قومی مفادات اور مٹی کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو کسی قسم کا سفارتی دباؤ نہیں تھا۔،ہمیں اول اور آخر اس مٹی کی حفاظت مقصود تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے وہ فرض ادا کیا، اُس کی راہ میں کسی سفارتی دباؤ کی کوئی حیثیت نہیں، پاکستان کا مفاد اوّل اور آخر ہے، ہماری افواج نے باخوبی نبھایا اور اور فضاؤں میں بھی چھائے رہے پانیوں کی حفاظت کرتے رہے۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ افواج نے مٹی کی حفاظت پاکستان کے طول و عرض سے گلگت بلتستان اور کراچی سے گوادر تک کی، ابی نندن کی حوالگی کے وقت اُس وقت کی سیاسی اور دفاعی لیڈر شپ بھارت سے جنگ کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔