سلامتی کونسل کا اجلاس، لبنان میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی پر اظہار تشویش

نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی شام فرانس کی درخواست پر لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافے اور جنوبی لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے معاملے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

اس اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ لبنان اور اسرائیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان

پاکستان نے لبنان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس میں اسرائیل کی بلیو لائن تک مکمل واپسی بھی شامل ہے۔

مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات اور براہ راست بات چیت کے باوجود، لبنان میں سکیورٹی اور انسانی صورت حال انتہائی تیزی سے بگڑ رہی ہے، جس کے ساتھ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور لبنانی حدود میں زمینی دراندازی میں بھی وسعت آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2000 مربع کلومیٹر جو لبنان کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، اب اسرائیل کے غیر قانونی قبضے میں ہے، انخلا کے غیر قانونی احکامات شہریوں کے لیے مزید بے پناہ مصائب کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حکمت عملی، وہی طریقہ کار ہے جو ہم نے دیگر مقامات پر دیکھا ہے یعنی اندھا دھند قتل عام، جبری بے دخلی اور قبضہ، مارچ سے اب تک لبنان میں خواتین اور بچوں سمیت 3400 سے زائد اموات اور 10,000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔

روس

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبینزیا نے کہا کہ 17 اپریل کو امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، بد قسمتی سے اس کے پردے میں اسرائیل نے لبنان کے خلاف جارحیت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب دنیا دو جون کو مذاکرات کے اگلے دور کی منتظر تھی، لبنان میں غزہ کی صورت حال سے ملتی جلتی صورتحال دیکھی گئی، جس میں آبادی کی جبری بے دخلی شامل ہے، لہٰذا یہ حیران کن نہیں کہ مسلح مزاحمت کا نظریہ واحد متبادل کے طور پر زیادہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

فرانس

اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ ان کے وفد نے اس اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وسعت اور تسلسل کا کوئی جواز نہیں۔

بونافون کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، آبادی بے دخل ہوئی اور لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل کی جانب سے ایک بڑی سٹریٹیجک غلطی ہے۔

امریکا

امریکا کے نمائندے مائیکل جی والٹز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کی قانونی حکومت ایک ایسی تنظیم سے ملک کو آزاد کرانے کی کوشش میں جرات کا مظاہرہ کر رہی ہے جو تہران کو جواب دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ فوری طور پر اپنے حملے بند کر دے، جیسا کہ اس نے بظاہر وعدہ کیا ہے، تو کشیدگی میں کمی اور امن تیزی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

والٹز کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے، لبنان کی فوج اور حکومت کو ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنا ہو گا اور ایران کو لبنان کو اپنے آپریشنز کے اگلے مورچے کے طور پر استعمال کرنا بند کرنا ہو گا۔

لبنان

لبنان کے نمائندے احمد عرفہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بحران کو محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل نے علاقائی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فوجی اقدامات میں خطرناک اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی تباہی کی منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور جان بوجھ کر طبی عملے، ہسپتالوں، صحافیوں، سکولوں، سکیورٹی اداروں، اقوام متحدہ کی فورس، مذہبی مقامات اور آثار قدیمہ سمیت بے شمار اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

عرفہ نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے معاملات میں یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرنا ہو گا تاکہ لبنان کی حکومت پورے ملک پر اپنا کنٹرول قائم کر سکے۔

عرفہ نے کہا کہ لبنان کی حکومت اس بات کی پابند ہو گی کہ اس کے بعد کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری قبول کرے۔

اسرائیل

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینون نے دعویٰ کیا کہ ان کا ملک کسی ایک صبح جاگ کر لبنان میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کر بیٹھا بلکہ دو مارچ کو حزب اللہ کے حملوں کے بعد اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کو اسرائیل کے شمالی علاقوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور حالیہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے اپریل کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں