برطانیہ، بھارت تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق نظرانداز کرنے پر تشویش
لندن: (دنیا نیوز) برطانیہ اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر ہاؤس آف لارڈ میں ہونے والی بحث کے دوران لارڈ قربان حسین نے معاہدے میں انسانی حقوق سے متعلق واضح شق شامل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
3 جون 2026 کو ہونے والی بحث کے دوران لارڈ قربان حسین نے سوال اٹھایا کہ آیا برطانیہ اور بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق کوئی شق موجود ہے یا نہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ معاہدے میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق دفعات شامل ہیں، تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے ایسی کوئی واضح شق نظر نہیں آتی۔
لارڈ قربان حسین نے کہا کہ اگر معاہدے میں انسانی حقوق سے متعلق کوئی شق شامل نہیں کی گئی تو کیا برطانوی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق جانوروں کے حقوق سے کم اہم ہیں۔
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے لارڈ لیونگ نے انسانی حقوق کے حوالے سے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ہر جگہ اہم ہیں، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، اور برطانوی حکومت بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری جاری رکھے گی۔
لارڈ قربان حسین نے کہا کہ ان کی تشویش بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق طویل عرصے سے سامنے آنے والے خدشات کی عکاس ہے، ان خدشات میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، شہری آزادیوں اور جموں و کشمیر کی صورتحال شامل ہیں۔
بحث کے دوران ان کے ریمارکس نے اس امر کو اجاگر کیا کہ اقتصادی اور تجارتی شراکت داریوں کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
یاد رہے کہ برطانیہ اور بھارت نے جولائی 2025 میں آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کیے تھے، تاہم یہ معاہدہ تاحال نافذ العمل نہیں ہوا۔