کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی پولیس وین پر فائرنگ، نام نہاد پرامن احتجاج کی حقیقت عیاں
راولاکوٹ: (دنیا نیوز) راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے پولیس کی بکتر بند گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد نام نہاد پرامن احتجاج کی حقیقت ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے راولاکوٹ کے عید گاہ مقام پر فلیگ مارچ کرنے والی پولیس بکتر بند پر مختلف ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔
ذرائع کے مطابق شرپسند عناصر نے 30 سے زیادہ گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسلح جتھوں کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے امن و امان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔
اطلاعات کے مطابق انتشاری کمیٹی کی جانب سے بعض مسلح جتھوں کو ایک ہزار سے 1500 روپے یومیہ معاوضے پر لایا گیا ہے، انتشاری کمیٹی کے سرغنہ کی ایک آڈیو لیک بھی منظر عام پر آ چکی ہے جس میں مسلح جتھوں کے ذریعے شرپسندی پھیلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
کالعدم انتشاری کمیٹی اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے جن میں سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کی آڑ میں مسلح کارروائیاں، جلاؤ گھیراؤ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اس انتشاری کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلح حملے انتشاری کمیٹی کے بیرونی ایجنڈے کا واضح ثبوت ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انتشاری کمیٹی کے حملے ریاستی رٹ کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہیں، جن سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔