میانمار کی فوج نے 6 ماہ میں 700 سے زائد شہری مار ڈالے: اقوام متحدہ

جنیوا: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج گزشتہ سال انتخابات کے دوران چھ ماہ کے عرصے میں 700 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2025 سے جنوری 2026 تک کے عرصے میں کم از کم 702 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، ہلاک ہونے والوں میں 224 خواتین اور 153 بچے شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق فضائی حملے شہری ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ بنے، کم از کم 505 افراد جنگی طیاروں، ڈرونز، پیرا موٹرز اور دیگر فضائی حملوں میں مارے گئے، ان ہلاک شدگان میں 175 خواتین اور 112 بچے بھی شامل تھے۔

اقوام متحدہ کی ترجمان روینا شمداسانی نے بتایا کہ رپورٹ میں درج 702 ہلاکتیں براہ راست میانمار کی فوج سے منسوب کی گئی ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہونے والی تمام ہلاکتیں اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں اور اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، جب فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا، بعد ازاں فوجی حکومت نے محدود انتخابات کا انعقاد کیا، جنہیں عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل سے قبل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، عدم استحکام اور سکیورٹی بحران پورے ملک میں نمایاں رہے، کئی ایسے واقعات کی تصدیق ہوئی ہے جنہوں نے آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے ضروری بنیادی حقوق اور آزادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

شہری ہلاکتوں میں دو ادوار کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا، ایک اگست اور ستمبر میں جب انتخابات کا اعلان کیا گیا، اور دوسرا دسمبر میں جب فوج مختلف علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کی صورتحال کو عالمی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور میانمار کو ہتھیاروں، جیٹ فیول اور ایسے سامان کی فراہمی روکی جائے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ میانمار میں جاری بحران جنوبی ایشیا کے سب سے سنگین انسانی المیوں میں تبدیل ہو چکا ہے اور عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں