ویتنام کا جعلی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کیلئے بھاری جرمانوں کا اعلان

ہنوئی: (ویب ڈیسک) ویتنام نے یکم جولائی سے سوشل میڈیا پر جعلی، گمراہ کن، مسخ شدہ یا ہتک آمیز معلومات پھیلانے والوں پردو تا تین کروڑ ویتنامی ڈونگ تک جرمانے عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ جرمانہ ان افراد پر بھی لاگو ہوگا جو قتل، تشدد، حادثات یا دیگر دل دہلا دینے والے مناظر کی تصاویر یا وڈیوز شیئر کریں، کاپی رائٹ کے حامل صحافتی، ادبی یا فنی مواد کو اجازت کے بغیر پھیلائیں، ممنوعہ اشیاء یا خدمات کی تشہیر کریں، ویتنام کی خودمختاری کو غلط انداز میں ظاہر کرنے والے نقشے شائع کریں یا ملکی قوانین کے تحت ممنوع آن لائن مواد کے روابط شیئر کریں

نئے ضوابط کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے، انقلابی کامیابیوں سے انکار، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے، مذاہب کی توہین، یا جنس اور نسل کی بنیاد پر نفرت انگیزی پر مشتمل مواد شیئر کرنے پر تین کروڑ سے پانچ کروڑ ویتنامی ڈونگ تک جرمانہ کیا جائے گا، بشرطیکہ یہ جرم فوجداری کارروائی کے دائرے میں نہ آتا ہو۔

اسی نوعیت کا جرمانہ ریاستی راز، ذاتی رازداری یا دیگر خفیہ معلومات افشا کرنے، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والی جھوٹی معلومات نشر کرنے، سماجی و معاشی سرگرمیوں یا سرکاری اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، یا افراد اور اداروں کے قانونی حقوق کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی معلومات پھیلانے پر بھی عائد کیا جائے گا۔

اگر یہ کارروائیاں فوجداری مقدمے کی حد تک نہ پہنچتی ہوں، یہ نئے ضوابط حکومتی فرمان کا حصہ ہیں جن پر یکم جولائی 2026ء سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں