سوشل میڈیا کے منفی اثرات: مختلف ممالک میں کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندیاں
اسلام آباد: (دنیا نیوز) کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے پیشِ نظر مختلف ممالک نے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کو ضابطے میں لانے والے ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی نشریاتی ادارے سکائی نیوز کے مطابق آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، رپورٹ کے مطابق 16 سال سے کم عمر صارفین کو بلاک نہ کرنے کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سکائی نیوز کے مطابق چین کے سائبر اسپیس ریگولیٹر نے ’’مائنر موڈ‘‘ پروگرام کے تحت ڈیوائس کی سطح پر پابندیاں اور ایپ سے متعلق مخصوص قوانین نافذ کر دیئے ہیں، جبکہ انڈونیشیا نے تقریباً 70 ملین بچوں کے متاثر ہونے کے پیشِ نظر 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو قانونی سرپرست سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا ہے۔
معروف ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے مؤثر عمر کی تصدیق کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے مختلف ممالک کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں خوش آئند اقدام ہیں، بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے پاکستان میں بھی عالمی طرز پر آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔