جج کا عہدہ ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا: چیف جسٹس عالیہ نیلم

لاہور: (محمد اشفاق) پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے 41 ججز کی پری سروس ٹریننگ مکمل ہونے پر اختتامی تقریب منعقد ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں سینئر جج جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی جسٹس ریٹائرڈ سردار احمد نعیم سمیت اکیڈمی کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ تمام ججز کو جوڈیشل فیملی میں خوش آمدید کہتے ہیں، جج ایک عام فرد نہیں ہوتا، اسے اپنے منصب کی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور شائستگی کا رویہ اپنانا چاہیے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جج کا عہدہ ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جج کو اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے چاہئیں، غلط فیصلے کرنے والے ججز اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جج کا قلم ہمیشہ چلتا ہے، لیکن قلم جج کے دماغ کو کہاں لے کر جاتا ہے، صرف جج کو ہی اس کا علم ہوتا ہے، جج کے ہر فیصلے میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام سے کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے نام سے دن کا آغاز کریں گے تو ہر کام میں رہنمائی ملے گی، جج کا عہدہ غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے اور جج کو اپنے منصب کا نشہ دماغ میں نہیں بٹھانا چاہیے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جج کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ اپنے فیصلوں کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے عدالتی فرائض انتہائی ذمہ داری اور دیانت داری سے ادا کیے جانے چاہئیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ کوئی فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ مجھ سے غلط فیصلہ ہوا ہے بلکہ وہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں کہ انہوں نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ہمارا ایک اچھا فیصلہ 70 ہزار سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ ہر کسی کو یہ اعتماد حاصل ہونا چاہیے کہ پنجاب جوڈیشری اچھا کام کر رہی ہے۔

تقریب کے اختتام پر پری سروس ٹریننگ مکمل کرنے والے ججز کو مبارکباد دی گئی اور انہیں عدالتی منصب کی ذمہ داریاں قانون، انصاف اور دیانت داری کے اصولوں کے مطابق ادا کرنے کی تلقین کی گئی، جبکہ ججز میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...