امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا
ماسکو: (ویب ڈیسک) امریکا کے ساتھ معاہدے کے بعد روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ میں صنعتی ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد روس نے ڈیزل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے وسط میں روسی حکومت کی جانب سے برآمدی کوٹے میں ردو بدل کے بعد یومیہ پیداوار اکتوبر کے اوائل کےایک لاکھ 60 ہزار ٹن سے بڑھ کرایک لاکھ 80 ہزارٹن ہو گئی ہے روس نے ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے جس کے تحت روسی کمپنیاں اکتوبر میں بین الاقوامی منڈیوں میں5 لاکھ ٹن تک ایندھن بھیج سکتی ہیں۔
اس سے قبل ڈیزل، بحری جہازوں کے ایندھن اور گیس آئل کی برآمدات پر 31 اکتوبر تک پابندی عائد تھی کیونکہ حکومت ملکی منڈی میں استحکام لانا چاہتی تھی، اس وقت فصلوں کی کٹائی کے موسم کی وجہ سے ملک میں ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔
اب روس میں مقامی طلب کم ہو کر تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ٹن یومیہ رہ جانے کی توقع ہے کیونکہ فصلوں کی کٹائی کا عمل بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔
تخمینوں کے مطابق اس سے روزانہ40 ہزار ٹن (یا ماہانہ 10 لاکھ ٹن سے زائد) ڈیزل برآمد کے لیے دستیاب ہو جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے پڑوسی ممالک کی جانب سے 2 لاکھ سے 3 لاکھ ٹن ڈیزل خریدے جانے کا امکان ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان 9 اکتوبر کو ہونے والی ایک ٹیلی فون گفتگو کے دوران امریکا کو روس کی طرف سے ڈیزل کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔
اس گفتگو کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل امریکا کو فراہم کرے گا، جس کے بعد نومبر میں 5 لاکھ ٹن، پھر مزید 10 لاکھ ٹن اور ریفائننگ کی صلاحیت کے مطابق مزید کھیپیں بھیجی جائیں گی۔
اس کے بعد امریکا نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دیتے ہوئے پابندیوں میں عارضی چھوٹ دے دی جس سے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت (2022) میں روس پرعائد کردہ پابندیاں ختم ہو گئیں۔گزشتہ ہفتے روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے بتایا تھا کہ ان کا ملک اس معاہدے کے تحت پہلے ہی ڈیزل سے لدے تین ٹینکر امریکا روانہ کر چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ روس عالمی منڈیوں اور امریکا کو ڈیزل کی اضافی فراہمی یقینی بنائے گا تاکہ دنیا بھر میں ڈیزل کی قلت کو کم کرنے میں مدد مل سکے، روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس وقت کہا تھا کہ امریکا کو ڈیزل کی ترسیل باقاعدگی سے جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان اس معاہدے نے امریکا اور یوکرین کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ روسی ریفائنریز پر حملے بند کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments