روس افریقہ سربراہی اجلاس : صدر پوتن کا افریقی ممالک سے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور
ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے دارالحکومت ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کے دوسرے اور آخری روز اہم سیاسی، سفارتی اور اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اجلاس میں 48 افریقی ممالک کے وفود شریک ہیں، جبکہ 22 ممالک کی نمائندگی سربراہانِ مملکت کر رہے ہیں، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد روس اور افریقی ممالک کے درمیان باہمی تجارت ڈیڑھ گنا بڑھ کر 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
جمعرات 29 اکتوبر کو گرینڈ کریملن پیلس میں سربراہی اجلاس کی مرکزی نشستیں منعقد ہو رہی ہیں، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، افریقی یونین کے چیئرمین اور برونڈی کے صدر ایوارست ندائیشیمیے سمیت مختلف افریقی ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔
اجلاس میں عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال، بین الاقوامی سلامتی، کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام اور روس و افریقی ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون بڑھانے کے امور زیرِ بحث ہیں۔ مرکزی کارروائی میں دو پلینری نشستیں شامل ہیں، جبکہ ایک نشست ورکنگ بریک فاسٹ کی صورت میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں افریقی وفود کے سربراہان اپنے ممالک کا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔
اجلاس کا آغاز بدھ 28 اکتوبر کو ماسکو کے تاریخی گوستینی دوور میں اقتصادی و انسانی تعاون فورم سے ہوا تھا۔ افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا تھا کہ دنیا میں کثیر قطبی نظام تشکیل پا رہا ہے اور افریقی ممالک عالمی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یکطرفہ پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور نوآبادیاتی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے افریقی ممالک کے ساتھ برابری، خودمختاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔
سربراہی اجلاس کے موقع پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں صدر پوتن نے روس اور افریقی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2022 کے بعد سے باہمی تجارت کے حجم میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کے ساتھ روس کی مجموعی تجارت میں مصر کا حصہ نمایاں ہے۔
دو روزہ فورم میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، صنعت، معدنیات، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ پروگرام میں 40 سے زائد کاروباری اور موضوعاتی نشستیں شامل ہیں، جن میں روسی اور افریقی کمپنیوں کے نمائندے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوسرے روز صدر پوتن کی برونڈی، نمیبیا، کینیا، سوڈان، مڈغاسکر اور زمبابوے کے رہنماؤں سمیت مختلف افریقی سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ ان مذاکرات میں سیاسی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ غور آئیں گے۔
روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے مطابق سربراہی اجلاس کے نتیجے میں 33 بین الحکومتی اور بین الادارہ دستاویزات، مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جن کا تعلق مختلف اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون سے ہے۔
اجلاس کے اختتام پر روس افریقہ تعاون کے مشترکہ اعلامیے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون سے متعلق الگ اعلامیے اور 2027 سے 2029 تک روس افریقہ شراکت داری کے عملی منصوبے کی منظوری بھی متوقع ہے۔ معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے بعد صدر پوتن اور برونڈی کے صدر کی مشترکہ میڈیا گفتگو بھی طے ہے، جس میں اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ روس افریقہ سربراہی اجلاس پہلی مرتبہ 2019 میں روس کے شہر سوچی، جبکہ دوسری مرتبہ جولائی 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہوا تھا۔ ماسکو میں جاری تیسرا اجلاس روس اور افریقی ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments