سموگ کیس میں شیرانوالہ گیٹ اور ٹکسالی گیٹ پراجیکٹس پر حکم امتناعی برقرار
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹکسالی گیٹ پراجیکٹس پر جاری حکمِ امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر کی، سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ماحولیاتی کمیشن کے رکن سید کمال حیدر، واسا کے وکیل میاں عرفان اکرم سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پی ایچ اے (پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی) کی جانب سے کون پیش ہوا ہے جس پر بتایا گیا کہ پی ایچ اے کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں، کمیشن کے رکن نے آگاہ کیا کہ اجلاس میں بھی پی ایچ اے کی جانب سے کسی نے شرکت نہیں کی۔
اس پر جسٹس شاہد کریم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کا رویہ دیکھ لیں، اگر یہی صورتحال رہی تو پراجیکٹس بھی رکے رہیں گے، عدالت نے دونوں منصوبوں پر حکم امتناعی برقرار رکھا۔
دورانِ سماعت پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا، وائس چانسلر کا مؤقف تھا کہ انہیں درخت کٹوانے کا اختیار حاصل ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ درختوں سے متعلق عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں لہٰذا وائس چانسلر کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
عدالت نے لاء افسران اور ممبر کمیشن سے تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔