پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کا غیر قانونی امیگریشن کیخلاف مشترکہ پالیسی پر اتفاق

روم: (دنیا نیوز) پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کے وزرائے داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن ہر سطح پر روکنے کے لیے مشترکہ پالیسی فریم ورک پر اتفاق کر لیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قیادت میں پاکستانی وفد نے روم میں منعقد مائیگریشن ڈائیلاگ میں شرکت کی جس میں اطالوی، ہسپانوی اور یونانی ہم منصب بھی موجود تھے۔

اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی۔ سپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈے مارلاسکا اور یونان کے وزیر مائیگریشن اتھاناسیس پلیورس نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لئے پاکستانی اقدامات کو سراہا۔

اس موقع پر اٹلی۔ سپین اور یونان نے غیرقانونی امیگریشن روکنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، پاکستانی وزیرداخلہ کی لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیرقانونی امیگریشن روکنے کی تجویز پرتینوں ممالک نے اتفاق کیا اور یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی بھرپور معاونت کا فیصلہ کیا۔

پاکستان۔ اٹلی۔ سپین اور یونان نے غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا، چاروں وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کا فیصلہ کیا، غیرقانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور منشیات کے خلاف مشترکہ پالیسی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا۔

اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، چار ملکی اجلاس آئندہ پاکستان میں ہوگا۔

محسن نقوی نے اٹلی کی جانب سے 10 ہزار 500 ملازمتیں مختص کیے جانے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ یورپی ممالک نقل مکانی کے خواہش مند افراد کے لیے ریگلولر طریقوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ غیرقانونی آمد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یونان اور اسپین کے وزرا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستانیوں کو ملازمتوں کے مواقع دیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں