طوفانی بارشوں سے ملک بھر میں تباہی، 15 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

لاہور، کوئٹہ، پشاور: (دنیا نیوز) طوفانی بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی، بارشوں اور سیلابی صورتحال سے کم از کم 15 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

سوات میں سیف اللہ جھیل میں کشتی ڈوب گئی جس سے 6 سیاح دم توڑ گئے،لاشیں نکال لی گئیں، ایک لاپتہ خاتون کی تلاش جاری ہے، جاں بحق تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

لاہورکے علاقے باغبانپورہ میں سکول کی چھت گرنے سے ابوبکر نامی بچہ جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہو گئے،۔ دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل کا لینٹر گر گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق لینٹر کچا ہونے کی وجہ سے زور دار دھماکے سے نیچے گرا،جب چھت گری اس وقت بچے پڑھ رہے تھے، گراونڈ فلور کا لینٹر گرنے سے بچا لیاگیا، 10 سے زائد بچوں کو ٹیوشن سنٹر سے بحفاظت نکال لیا گیا۔

اٹک میں دیوار اور چھت گرنے کے واقعات میں 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنےسے2 بچے جاں بحق اور4زخمی ہو گئے، دیربالا میں آسمانی بجلی گرنے سے مدرسے کی 20 طالبات زخمی ہوگئیں۔

ژوب میں بارش کے دوران چھتیں گرنے سے خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے شہری دم توڑ گیا۔

ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں گاڑی بہنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے، مردان میں طوفانی بارش سےسائن بورڈاوردیوارگرنے سے2بچوں سمیت 3افراد زخمی ہوگئے۔

 اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوئی، ٹھنڈی ہواؤں کا راج رہا، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔

اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاؤالدین ،سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور،مریدکے میں بھی بادل خوب برسے، گجرات میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔

ہری پور میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہو گیا، ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، بارشی پانی دکانوں میں داخل ہو گیا۔

خضدار، ژوب ، کوہلو میں بھی برکھا رت برسی، صوابی میں بارش اور ژالہ باری ہوئی، کراچی میں بھی بادل چھا گئے، نیو کراچی، گلشن معمار، گڈاپ میں بوندا باندی ہوئی۔

گلگت بلتستان ریجن میں دیامر کے نواحی گاؤں گیس بالا، پائین اور نیاٹ ویلی میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، رابط سڑک متاثر ہوئی اور سیلابی ریلہ گھروں میں داخل ہو گیا۔

حکام کے مطابق سیلاب سے لوگوں کے فصلیں، باغات اور زرعی اراضی زمینیں شدید متاثر ہوئی ہیں، نیاٹ ویلی میں بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، بالائی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

این ڈی ایم اے کا ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا گیا، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے، پہاڑی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ متوقع ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں